کراچی (آن لائن) سندھ اسمبلی اجلاس میں بھارت میں گستاخانہ اقدامات کے خلاف مذمتی قراردادمتفقہ منظور۔تفصیلات کے مطابق سندھ اسمبلی نیمنگل کو اپنے اجلاس میں بھارت میں گستاخانہ اقدامات کے خلاف ایک مذمتی قراردادمتفقہ طور پر منظور کرلی جس میں کہا گیا ہے کہ بی جے پی کی قیادت نے شان رسالت میں توہین کرکے مسلم امہ کی دل آزاری کی ہے۔قراردادپیپلزپارٹی کی خاتون رکن سعدیہ جاوید کی جانب سے پیش کی گئی۔قرارداد کے مطابق بھارتی انتہا پسند جماعت بی جے پی آرایس ایس کی مسلمانوں کے خلاف متعصبانہ پالیسی پر عمل پیرا ہے۔قرارداد میں مطالبہ کیا گیا ہے کہ بھارتی حکمران جماعت کے توہین آمیز بیانات کے خلاف وفاقی حکومت بھارت سے سخت احتجاج کرے۔ایوان میں قرارداد پر بحث میں حصہ لیتے ہوئے۔ پی ٹی آئی کے پارلیمانی لیڈر خرم شیر زمان نے کہا کہ حکومت پاکستان بھارتی گستاخانہ اقدامات کے خلاف او آئی سی میں معاملے کو اٹھائے کیونکہ یہ مسلمانوں کے ایمان کا معاملہ ہے۔ایم کیو ایم کے رکن محمد حسین نے کہا کہ بھارت میں مسلمانوں کیخلاف انتہاپسندانہ اقدامات کئے جارہے ہیں جو انتہائی قابل مذمت عمل ہے۔انہوں نے کہا کہ ہم اپنے آقا کی وجہ سے مسلمان ہیں اور آقا آئے تو ہمیں قرآن پاک ملا،یہ نہیں ہو سکتا کہ نبی کے شان میں کوئی گستاخی کرے اور مسلمان خاموش رہیں۔محمد حسین نے کہا کہ ہم سب سندھ اسمبلی کے اراکین کا مطالبہ ہے کہ عرب ممالک کی طرح پاکستان میں بھی بھارتی سفیر کو نکالا جائے بھارتی پروڈیکٹس کا بائیکاٹ کیا جائے،محمد حسین کا کہنا تھا کہ جب بھارتی حکومت پر دباؤ ڈالا جائے گا تو وہ اس طرح کے عمل سے اجتناب کریں گے ورنہ اظہار رائے کی ا?زادی کے نام پر گستاخی کا عمل جاری رہے گا۔جی ڈی اے کی خاتون رکن نصرت سحر عباسی نے کہا کہ انتہا پسند بی جے پی کے گستاخانہ بیانات کی شدید مذمت کرتے ہیں، بھارتی انتہاپسندوں کی شرمناک حرکت سے پوری دنیا کے مسلمانوں کے جذبات مجروح ہوئے ہیں۔انہوں نے مطالبہ کیا کہ بھارت سے سیاسی معاشی سفارتی تعلقات منقطع کئے جائیں۔ نصرت سحر عباسی نے کہا کہ مسلمان کبھی بھی نبی کریمﷺکی شان میں گستاخی برداشت نہیں کرسکتا ہے۔وہ صرف مسلمانوں کے لئے نہیں بلکہ پوری دنیا کے لئے آئے تھے۔ ہم مودی پر لعنت بھیجتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ جس جس نے گستاخی کی اس کا انجام بھی ساری دنیا دیکھے گی۔بھارت کا چہرہ سب کے سامنے بے نقاب ہوچکا ہے۔انہوں نے کہا وزیر خارجہ کی حیثیت سے بلاول بھٹو پر پوری ذمہ داری ہے کہ وہ اس معاملے کو پوری دنیا کے سامنے اٹھائیں۔
Load/Hide Comments



