فوڈ آئٹمز میں ملی حرام اشیاء کی فروخت،چیئرمین ہلال فوڈ اتھارٹی کی عدم پیشی پر لاہور ہائیکورٹ برہم

لاہور (آن لائن) لاہور ہائیکورٹ نے فوڈ آئٹمز میں ملی حرام اشیاء کی فروخت کیخلاف دائر درخواست سماعت پر چیئرمین ہلال فوڈ اتھارٹی کو ذاتی حیثیت میں پیش نہ ہونے پر سخت برہمی کا اظہار کیا ہے اور آئندہ سماعت پر وزیراعلیٰ کو طلب کرنے کا عندیہ دے دیا۔ دوران سماعت عدالت نے قرار دیا کہ نہیں ہے, بہت خطرناک ہے۔جسٹس طارق سلیم شیخ نے کیس کی سماعت کی۔ عدالت نے باور کرایا کہ چئیرمن اگر آئندہ سماعت ہر پیش نہیں ہوئے تو وارنٹ گرفتاری جاری کردیں گے۔ درخواست گزار کے وکیل نے عدالت کو بتایا کہ نجی اسٹور کے آفیشل فیس بک پر حرام اشیاء کی سرعام تشہیر کی جارہی ہے, درخواست گزار وکیل نے حرام اشیاء کی فروخت کے تصویر شواہد عدالت پیش کر دئیے اور بتایا کہ2018 میں مختلف حرام اشیاء کی فروخت کی نشاندہی کی جا چکی ہے, لیکن عملدرآمد نہیں ہوا, عدالت نے کہا کہ تشویس کی بات تو یہ ہے کہ نہ صرف پاکستان میں موجود ہیں بلکہ سرعام فروخت بھی ہو رہی ہیں۔ عدالت نے کہا کہ پراڈکٹس ہر گھر میں جاتی ہے, حرام ہیں یا ہلال کوئی میکنزم ہی نہیں ہے, عدالت کے فاضل جج نے باور کرایا کہ آئندہ سماعت پر موم ورک کر کہ آئیں وگرنہ سخت حکم جاری کروں گا,بتایا جائے کہ ہلال فوڈ اتھارٹی میں پانچ سال سے تعیناتیاں کیوں نہیں کی گئیں, ان پانچ سالوں میں ہلال فوڈ اتھارٹی نے کیا کام کیا مکمل تفصیلات جمع کروائیں۔ پنجاب حکومت کے وکیل نے اس معاملے پر لارجر بینچ بنانے کی استدعا کی عدالت کے فاضل جج نے پنجاب حکومت کے وکیل کی لارجر بینچ بنانے کی استدعا مسترد کرتے ہوئے قرار دیا کہ یہ کیس میں خود سنوں گا ہر معاملے ہر لارجر بینچ بناے کا کہہ دیتے ہیں۔عدالت نے مزید سماعت آئندہ جمعہ تک ملتوی کردی-