اسلام آباد(آن لائن) سینٹ میں ہر موضوع پر بحث مباحثہ کرنے والی سیاسی جماعتیں ناموس رسالت کے لئے متحد نظر آئیں۔ چیئرمین سینیٹ محمد صادق سنجرانی کی زیر قیادت سینیٹرز کا بھارت میں ہرزہ سرائی کے خلاف احتجاجی مظاہرہ، مذمتی قرارداد بھی بھارتی ہائی کمیشن میں پیش کی۔چئر مین نے سینیٹ میں موجود تمام سیاسی جماعتوں سے تعلق رکھنے والے اراکین کے ہمراہ پاکستان میں بھارتی ہائی کمیشن کے سامنے خاتم البنیین کی شان میں بی جے پی کی ترجمان نوپر شرما کے گستاخانہ بیان کے خلاف احتجاج ریکارڈ کرایا۔ احتجاج کے بعد چیرمین سینیٹ نے سینیٹرز کے ہمراہ ایوان بالا سے اس حوالے سے متفقہ طور پر منظور ہونے والی مذمتی قرار داد بھارتی ہائی کمیشن کے حکام کے حوالے کی۔ چیئرمین سینیٹ محمد صادق سنجرانی نے کہا کہ تمام مسلمان ناموس رسالت? پر ہر چیز قربان کرنے کو تیار ہیں۔۔انہوں نے اس موقع پر گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ بی جے پی کی ترجمان کے بیان کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہیں جو کسی بھی مسلمان کیلئے قابل قبول نہیں ہے۔نوپرشرما کے بیان نے اْمت مسلمہ کی نہ صرف دل آزاری کی ہے بلکہ بھارتی حکومت کا مکروہ چہرہ بھی دنیا کے سامنے عیاں کیا ہے۔ ترجمان کے گستاخانہ بیان کی پاکستان کے دونوں ایوانوں اور عوام نے شدید مذمت کی ہے اور شدید غم و غصے کا اظہار کیا ہے۔اقوام عالم حضور اکرم? کی شان میں بھارتی ترجمان کی گستاخی کے بیان کو سنجیدہ لے اور بھارت کے ساتھ اپنے سفارتی، معاشی اور سیاسی تعلقات کو ختم کرے تاکہ مستقبل میں بھارت ایسی گستاخی کی جرات نہ کر سکے۔انہوں نے کہا کہ عالم اسلام کے کروڑوں مسلمان ناموس رسالت? پر اپنی جان ومال قربان کرنے کو تیار ہیں۔چیئرمین سینیٹ محمد صادق سنجرانی کے ہمراہ احتجاج میں ڈپٹی چیئرمین سینیٹ سینیٹر مرزا محمد آفریدی، قائد حزب اختلاف سینیٹ سینیٹر ڈاکٹر شہزاد وسیم و دیگر سینیٹرز نے خطاب کرتے ہوئے گستاخانہ بیان کی شدید الفاظ میں مذمت کی۔ سینیٹر زکیشو بائی اور دنیش کمار نے کہا کہ کوئی بھی مذہب کسی دوسرے مذہب کی گستاخی کی اجازت نہیں دیتا۔ پاکستان میں اقلیتوں کو مکمل مذہبی آزادی حاصل ہے اور کبھی بھی مسلمانوں کی جانب سے انہیں مذہبی حراسگی کا سامنا نہیں کرنا پڑا۔ پاکستان میں تمام مذاہب کے لوگ مکمل آزادی سے اپنی مذہبی رسومات ادا کرتے ہیں۔
Load/Hide Comments



