اسلام آباد (آن لائن) وفاقی وزیر خزانہ مفتاح اسماعیل نے موجودہ معا شی بحران کا ذمہ دار عمران خان کو قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ تحریک انصاف ملک کو دیوالیہ کرنے کے قریب چھوڑ گئی تھی اب اسے بچانے کے لیے ہم سب کو ٹیکس دینا ہوگا،اسلام آباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے مفتاح اسماعیل نے کہا کہ روپے پر جلد دباؤ ختم ہوجائے گا اور چیزیں آسان ہوجائیں گی، تین ماہ میں ایسی کوئی کام نہیں کیا جس سے روپے کی قدر میں کمی آئے، درآمدات میں کمی کے باعث روپے کی قدر مستحکم ہو رہی ہے، اس ماہ 5 ملین ڈالر کی درآمدات ہوئیں درآمدات میں یہ کمی خوش آئند ہے۔ انہوں نے کہا کہ انہوں نے کہا کہ عمران خان ملک کو دیوالیہ کر گئے تھے لیکن ہم نے بچالیا، عمران خان پوچھتے ہیں ذمہ دار کون ہے؟ ذمہ دار وہ خود ہیں، انہوں نے کہا کہ عمران خان کی حکومت میں ٹیکس کلیکشن میں کمی آئی، خان صاحب نے آئی ایم ایف سے وعدہ کرکے توڑا تو کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ بڑھ گیا، ہم نے مشکل بجٹ دیا کیونکہ عمران خان ملک اس صورتحال میں چھوڑ کر گئے، اس ماہ کی بجلی کے بل میں اپریل کی فیول ایڈجسٹمنٹ آئی تو اس میں ہمارا کیا قصور؟ گردشی قرضہ آپ نے 1400 ارب بڑھا دیا، ہر شعبے کی تنزلی کے ذمہ دارعمران ہیں،انہوں نے توایک پیسے کا کام نہیں کیا۔وزیر خزانہ نے کہا کہ کرنٹ اکاؤنٹ خسارے کی وجہ عمران خان کی پالیسیاں تھیں، عمران خان نے نقصان پر پیٹرول اور ڈیزل پر سبسڈی دی، کم قیمت پر پیٹرول بیچ کر سری لنکا جیسی حرکت کی، بجلی اور گیس سستی کر کے ہمیں بھی ٹریپ کیا۔وفاقی وزیر خزانہ مفتاح اسمٰعیل نے کہا کہ ہم نے پاکستان کو دیوالیہ ہونے سے بچایا ہے اور اب ہم پاکستان کو ایک اچھی معیشت دیں گے،شرمندہ ہوں کہ ملک میں بڑھتی ہوئی مہنگائی کو کم نہ کرسکا تاہم روپے کی قدر بہتر ہونے سے مہنگائی میں کمی ہوگی،مسلم لیگ ن پر کرپشن کا الزام لگانے والے بتائیں کہ اب تک کونسی کرپشن ثابت کی ہے اپنے الزامات پر شرم کریں۔ وفاقی وزیر خزانہ نے کہا کہ ماہ جون میں 3.8 ارب ڈالر کی پیٹرولیم مصنوعات خریدی تھیں جس کی ادائیگیاں جولائی میں کی گئیں جس کے باعث روپے کے اوپر بہت دباو آیا کیوں کہ ادائیگیاں زیادہ تھیں اور ڈالر کی آمد کم تھی۔وزیر خزانہ نے کہا کہ رواں ماہ ہمیں 80 کروڑ ڈالر اسٹیٹ بینک کو زیادہ دینے پڑے کیوں کہ درآمدات، ادائیگیاں، ترسیلات زر ملا کر ہمیں 800 ملین ڈالر کا خسارہ ہوا ہے۔ان کا کہنا تھا کہ چونکہ جولائی میں درآمدات کی رسائی کم ہے لہٰذا اس کی ادائیگیاں بھی کم ہوں گی چنانچہ ہم دیکھیں گے کہ اگست سے یہ دباؤ ختم ہوجائے گا اور جو 5 ارب ڈالر کی درآمد ہوئی ہے وہ جون کے 7.7 ارب ڈالر کے مقابلے 2.7 ارب ڈالر کم ہے جس سے ہمیں فائدہ ہوگا۔ان کا مزید کہنا تھا کہ کابینہ کی اقتصادی رابطہ کمیٹی گاڑیوں، موبائل فونز اور گھریلو برقی آلات کی درآمد سے پابندی ہٹانے کی منظوری دے چکی ہے جس کے بعد اسے وزیراعظم اور کابینہ کی منظوری کے لیے بھیجا جائے گا۔وزیر خزانہ نے کہا کہ ہم سمجھتے ہیں کہ ہم نے نہ صرف معاشی طور پاکستان کو دیوالیہ ہونے سے بچایا بلکہ ایک اچھی معیشت دینے کا بھی سوچا ہے۔انہوں نے کہا کہ گزشتہ سال ساڑھے 17 ارب ڈالر کا کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ تھا جس کی وجہ سے ہم یہاں پہنچے، ہم نے عزم کیا ہے کہ ہم ایک آدھ سال میں اسے سرپلس میں بدلنے کی کوشش کریں گے جس کے لیے فی الفور درآمد کم کرنے کی کوشش کی جس میں ہم کامیاب رہے اور اب ایکسپورٹ بڑھانے کی کوششیں کریں گے لیکن دیوالیہ ہونے کا بڑا خطرہ دور ہوگیا ہے۔ان کا کہنا تھا کہ ہم نے اقتدار سنبھالنے کے 3 ماہ میں ہم نے ایسا کچھ نہیں کیا کہ جس سے روپے کی قدر کم ہو یا ملک دیوالیہ ہونے کی نہج پر جائے، جو شخص اس نہج پر لے کر آیا تھا وہ تو عمران خان اور پی ٹی آئی ہے۔
Load/Hide Comments



