دیجیٹل دور اور کھوئی ہوئی خاموشی

انسان نے جب سے شعور کی آنکھ کھولی، وہ سکون اور اطمینان کی تلاش میں بھٹک رہا ہے۔ لیکن آج کے اکیسویں صدی کے انسان کا سب سے بڑا المیہ یہ ہے کہ اس نے آسائشیں تو خرید لیں، مگر اپنے اندر کا سکون بیچ دیا۔ ہم ایک ایسے شور زدہ معاشرے میں جی رہے ہیں جہاں ہر طرف ٹیکنالوجی کی چکا چوند ہے، سکرینوں کی مصنوعی روشنی ہے، اور نوٹیفیکیشنز کی ایک نہ ختم ہونے والی یلغار ہے۔

ہم نے رابطے کے ذرائع تو بڑھا لیے، لیکن تعلقات کی گہرائی کھو دی۔ آج کا انسان تنہائی سے ڈرتا ہے، اسی لیے وہ ہر لمحہ خود کو پُر رکھنے کے لیے موبائل سکرین کا سہارا لیتا ہے۔ لیکن یہ کیسی بھیڑ ہے جس میں ہر شخص خود کو پہلے سے زیادہ تنہا محسوس کر رہا ہے؟

“ٹیکنالوجی بذاتِ خود بری نہیں، مگر جب یہ ہمارے سوچنے سمجھنے اور خود سے گفتگو کرنے کا وقت چھین لے، تو یہ ایک خاموش زہر بن جاتی ہے۔”

ماضی میں جب رات ہوتی تھی، تو ایک فطری خاموشی کائنات کو اپنے حصار میں لے لیتی تھی۔ وہ خاموشی انسان کو خود شناسی کا موقع دیتی تھی۔ انسان اپنے پورے دن کا محاسبہ کرتا تھا، اپنے فیصلوں پر غور کرتا تھا اور اپنے خالق سے لو لگاتا تھا۔ آج ہم نے اس قیمتی خاموشی کو “ڈیجیٹل شور” سے بدل دیا ہے۔ ہم بستر پر بھی لیٹتے ہیں تو دنیا بھر کے مسائل، ویڈیوز اور سوشل میڈیا کا کچرا اپنے دماغ میں انڈیل کر سوتے ہیں۔ نتیجہ؟ اضطراب، بے چینی اور ڈپریشن۔

ہمیں یہ سمجھنا ہوگا کہ زندگی کی اصل خوبصورتی اور فیصلوں کی پختگی اس وقت جنم لیتی ہے جب انسان کچھ دیر کے لیے بیرونی دنیا سے کٹ کر اپنی اندرونی دنیا میں جھانکتا ہے۔ تخلیقی صلاحیتیں، گہرے خیالات اور حقیقی سکون اسی خاموشی کے مرہونِ منت ہیں۔

اگر ہم اپنی ذہنی صحت اور معاشرتی اقدار کو بچانا چاہتے ہیں، تو ہمیں دن میں کچھ وقت “ڈیجیٹل فاسٹنگ” (Digital Fasting) یعنی سکرینوں سے دوری کے لیے مخصوص کرنا ہوگا۔ ہمیں اپنے بچوں کو دوبارہ کتاب، مٹی اور فطرت کی خاموشی سے روشناس کروانا ہوگا۔ یاد رکھیے، سکرین پر نظر آنے والی دنیا مجازی ہے، جبکہ حقیقی زندگی وہ ہے جو آپ کے ارد گرد سانس لے رہی ہے۔

آئیے، آج سے چند لمحے اس خاموشی کے نام کریں جو ہمیں خود سے ملاتی ہے۔ کہیں ایسا نہ ہو کہ اس شور میں ہم اپنی اصل پہچان ہی گم کر بیٹھیں۔

امید ہے کہ یہ کالم آپ کو پسند آیا ہوگا۔ کیا آپ اس میں کسی مخصوص موضوع (جیسے سیاست، اخلاقیات یا تعلیم) پر تبدیلی کروانا چاہتے ہیں؟