سانحۂ گل پلازا کیس میں جوڈیشل مجسٹریٹ جنوبی کی عدالت میں پولیس نے پراسیکیوشن کے اعتراضات دور کیے بغیر تیسری بار چالان جمع کروا دیا جبکہ چالان کے ساتھ جوڈیشل کمیشن کی رپورٹ بھی منسلک نہیں کی گئی۔
ڈپٹی ڈسٹرکٹ پبلک پراسیکیوٹر عبدالرزاق گجر نے چالان عدالت کو بھجوا دیا۔
چالان کے مطابق مارکیٹ یونین کے صدر تنویر پاستا، نائب صدر عمار اسماعیل، جوائنٹ سیکریٹری محمد رمضان، سیکریٹری محمد امین، دکاندار نعمت اللّٰہ اور اس کے 11 سالہ بیٹے حذیفہ کو ملزم نامزد کیا گیا ہے، کم عمر ملزم حذیفہ کے خلاف جوینائل قوانین کے تحت مقدمہ چلایا جائے گا جبکہ مقدمے میں قتل بالسبب، غفلت سے نقصان، آتشزدگی سے نقصان اور املاک کو نقصان پہنچانے کی دفعات شامل کی گئی ہیں۔
چالان میں پولیس، فائر بریگیڈ، متاثرین اور ریسکیو 1122 کے اہلکاروں سمیت 60 گواہان کے نام شامل ہیں جبکہ مقدمے میں 4 عینی شاہدین کے دفعہ 164 کے تحت بیانات بھی قلم بند کروائے گئے ہیں۔
چالان کے متن کے مطابق گل پلازا میں آگ کا آغاز دکان نمبر 192 سے ہوا، دکاندار نعمت اللّٰہ اکثر اپنی دکان اپنے 11 سالہ بیٹے حذیفہ کے حوالے کر کے چلا جاتا تھا اور آتشزدگی کے روز بھی سی ڈی آر رپورٹ کے مطابق وہ موقع پر موجود نہیں تھا۔
کراچی پولیس نے پھر سانحہ گل پلازا کا نامکمل اور کمزور چالان پیش کردیا
چالان میں کہا گیا ہے کہ 11 سالہ حذیفہ ماچس جلا کر کھیل رہا تھا جس سے مصنوعی پھولوں میں آگ بھڑک اٹھی۔
چالان کے مطابق مارکیٹ یونین کے عہدیداروں نے ایمرجنسی ہیلپ لائن پر بر وقت اطلاع دے کر مدد طلب نہیں کی جبکہ ان کا کال ڈیٹا ریکارڈ بھی حاصل کیا گیا جس میں ایمرجنسی نمبر پر بر وقت کال کا کوئی ریکارڈ نہیں ملا۔
چالان میں یونین کمیٹی کی جانب سے کم عمر بچے کو دکان پر بٹھانے سے نہ روکنے کو بھی غفلت قرار دیا گیا ہے۔
چالان کے مطابق فائر بریگیڈ کو آگ لگنے کی اطلاع عبدالصمد نامی شخص نے رات 10 بج کر 26 منٹ پر دی جبکہ عبدالصمد کے مطابق اس نے یہ اطلاع خود دی تھی اور مارکیٹ یونین کی جانب سے اسے کوئی ہدایت نہیں دی گئی تھی۔
پولیس 15 کو دکاندار اویس نے رات 10 بج کر 30 منٹ پر اطلاع دی۔
چالان میں کہا گیا ہے کہ بر وقت اطلاع نہ ملنے کے باعث 72 افراد جان کی بازی ہار گئے جبکہ 8 افراد زخمی ہوئے اور آتشزدگی کے نتیجے میں 1153 دکانیں سامان سمیت جل گئیں۔
چالان کے مطابق ریسکیو اداروں کو امدادی کارروائی کے دوران شدید دشواری کا سامنا کرنا پڑا۔
تنویر پاستا نے کے الیکٹرک کو کال کر کے بجلی بند کروائی تاہم معقول روشنی کا بندوبست نہ ہونے کے باعث لوگ بر وقت باہر نہ نکل سکے اور بجلی کی بندش کے دوران متاثرین کی رہنمائی کا بھی کوئی انتظام موجود نہیں تھا۔
چالان میں بتایا گیا ہے کہ ریسکیو 1122 کے اہلکاروں کے بیانات بھی قلم بند کیے گئے ہیں۔
ایک ریسکیو اہلکار کے مطابق گل پلازا کے راستوں پر گرل گیٹس پر تالے لگے ہوئے تھے جبکہ ایدھی کے رضاکار نے بھی راستے بند ہونے کی تصدیق کی۔
چالان کے مطابق انہی بند راستوں کی وجہ سے زیادہ لوگوں کی اموات ہوئیں۔
چالان میں کہا گیا ہے کہ گل پلازا میں اس سے قبل بھی 2 مرتبہ آگ لگ چکی تھی۔
سول ڈیفنس کے افسر کے مطابق انتظامیہ کے پاس فائر سیفٹی کی ٹریننگ موجود نہیں تھی، مارکیٹ میں فائر ہائیڈرنٹ بھی نصب نہیں تھا اور سول ڈیفنس حکام کی ہدایت کے باوجود فائر سیفٹی سیشن بھی منعقد نہیں کیا گیا۔



