ماحولیاتی تبدیلی سرحدی حدود کی پابند نہیں، سینیٹر شیری رحمٰن

اسلام آباد(آن لائن)وفاقی وزیر برائے ماحولیاتی تبدیلی سینیٹر شیری رحمٰن نے کہا ہے کہ ماحولیاتی تبدیلی سرحدی حدود کی پابند نہیں،ترقی یافتہ ممالک کی جانب سے بڑے پیمانہ پر گیسوں کا اخراج ماحول کو شدید متاثر کر رہا ہے، پاکستان میں اس ماہ مون سون کے بہت سارے المناک جانی نقصانات ہوئے ہیں، موسم کسی کے قابو میں نہیں ہوسکتا، صرف ہمارے ردعمل کو بہتر بنایا جاسکتا ہے۔ DAI پاکستان کے کلائمیٹ فنانس ایکسلریٹر (CFA) پروگرام کی افتتاحی تقریب میں بطور مہمان خصوصی خطاب کرتے ہوئے وفاقی وزیر نے کہا جنوبی ایشیا میں غیر معمولی موسمیاتی واقعات کا سامنا ہے، یورپ اور امریکہ کو اب انتہائی درجہ حرارت کا سامنا ہے، لیکن یہ اب بھی اس سے دس ڈگری کم ہیں جو ہم یہاں برداشت کر رہے ہیں۔ اگرچہ ماحولیاتی بحران ہمارے دروازے پر دستک پر موجود ہے موثر حکمت عملی پر عملدرآمد سست روی کا شکار ہے۔ صرف پاکستان کو توانائی کی ہموار منتقلی کے لیے 101 بلین ڈالر کی ضرورت ہے۔ وفاقی وزیر نے زور دیا کہ کلائمیٹ فنانس کو بلیو بانڈز سمیت دیگر قابل عمل اقدامات کے ذریعے فعال کرنے کی ضرورت ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ بہت سی کمپنیاں محض اپنی آلودگی کو گرین واش کر رہی ہیں جبکہ ان کے حوالے موثر حکمت عملی وضع کی گئی ہے۔ نجی شعبہ ایک اہم فریق ہے اور اسے اپنے ڈی کاربنائزیشن کے اقدامات کے ساتھ تیزی سے آگے بڑھنا چاہیے۔بدقسمتی سے، دنیا اس نقصان کا اندازہ لگانے میں ناکام رہی ہے جو کئی دہائیوں سے کاربن سے بھرپور طرز زندگی کے باعث ہوئے ہیں۔ یہ وقت ہے کہ چھوٹے پائلٹ منصوبہ ماحولیاتی تبدیلیوں سے نمٹنے کے لیے کافی نہیں ہیں ہمیں بڑے پیمانے پر، نئے اقدامات کی ضرورت ہے جو موسمیاتی مالیات میں اختراعات پر توجہ مرکوز کریں۔مالیات کہ منصفانہ تقسیم اور جدید ٹیکنالوجی کی فراہمی اس سلسلے میں ناگزیر ہے۔ ہمیں نئے اور مربوط موسمیاتی مالیاتی آلات ڈیزائن کرنے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ منصفانہ ماحولیاتی فنانسنگ مستقبل میں تخفیف، موافقت اور پائیدار منصوبوں کی تعمیر کے لیے اہم ہے۔