تمام اداروں کو اپنی آئینی حدود میں رہتے ہوئے کام کرنا ہوگا،رانا تنویر حسین

کراچی (آن لائن)وفاقی وزیرِ تعلیم و پیشہ ورانہ تربیت رانا تنویر حسین نے کہا ہے کہ پارلیمنٹ کی بالادستی وقت کی ضرورت ہے۔تمام اداروں کو احدود میں رہتے ہوئے کام کرنا ہوگا۔عمران خان نے اپنے ساڑھے تین سالہ دور اقتدار میں سوائے انتقامی کارروائیوں کے کوئی کام نہیں کیا۔چیئرمین پی ٹی آئی کسی اور کے ایجنڈے پر کام کررہے ہیں۔ہم قوم کے لیے مشکل فیصلے کررہے ہیں۔لوگوں کے ریلیف دینے کے بعد الیکشن میں جائیں گے۔تین چار روز میں نئے چیئرمین ایچ ای سی کی تعیناتی کردی جائے گی۔وہ جمعہ کو آئی بی سی سی کی نئی عمارت کی افتتاحی تقرب سے خطاب اور صحافیوں سے بات چیت کررہے تھے۔اس موقع پر سیکریٹری آئی بی سی سی غلام علی ملاح نے بھی خطاب کیا۔تقریب میں صوبائی وزیر تعلیم اسماعیل راہو، سیکرٹری بورڈز مرید راحموں بھی موجود تھے۔انہوں نے کہا کہ آئی بی سی سی نے معیاری بلڈننگ بنائی ہے۔اس سے طالب علموں کو دستاویزات کی تصدیق میں سہولت ملے گی۔ کام کرنے کی نیت اچھی ہو تو کبھی پکڑ نہیں ہوتی ہے۔وفاقی وزیر تعلیم نے کہا کہ کوالٹی ایجوکیشن پر یقین رکھتا ہوں، آہستہ آہستہ تعلیم بہتر ہو رہی ہے، میں جامعات کی عالمی درجہ بندی سے مطمئن نہیں ہوں۔انہوں نے کہا کہ قومی درجہ بندی ہونی چاہیے، ہایئر ایجوکیشن کمیشن کو ڈائریکشن دے دی ہے۔ رانا تنویر حسین نے کہا کہ جامعات کو جتنی مالی مدد کی ضرورت ہو گی کریں گے، پی ٹی آئی حکومت نے فنڈز 30 ارب کیا تھا ہم 120 ارب روپے سے اوپر لے گئے۔انہوں نے کہا کہ دنیا میں اب پی ایچ ڈی کی مانگ نہیں رہی بلکہ ہنر مند افراد کی ضرورت ہے، کوالٹی کے لیے تربیت یافتہ اساتذہ ضروری ہیں، لاکھوں ٹیچرز جن کی تربیت ضروری ہے۔انہوں نے کہا کہ ایک جیسی تعلیم کا خیال تھا، ہم نے سنگل قومی نصاب ختم کر کے اسے قومی نصاب کر دیا ہے۔