حلیم عادل شیخ  کی گرفتاری کے خلاف پی ٹی آئی ارکان کا زبردست احتجاج، نعرے بازی

کراچی (آن لائن)سندھ اسمبلی کے اجلاس میں جمعہ کو اپوزیشن لیڈر حلیم عادل شیخ  کی گرفتاری کے خلاف پی ٹی آئی کے ارکان اسمبلی نے ایوان میں زبردست احتجاج کیا اور نعرے بازی کی- احتجاج کرنے والوں نے اپنے ہاتھوں پلے کارڈز بھی اٹھائے ہوئے تھے جن پر نعرے درج تھے- وقفہ سوالات کے بعد قائد حزب اختلاف حلیم عادل شیخ نے کہا کہ  کراچی سمیت سندھ میں زیادہ بارش نہیں ہوئی  مگر شہر ڈوبے ہوئے ہیں – مٹیاری سجاول ٹھٹھہ زر آب ہیں – انہوں نے الزام لگایا کہ انہیں ایک جھوٹے  کیس میں لاہور سے گرفتار کیاگیا یہ کیس چونتیس سال پرانا ہے جس میں عدالت نے بری بھی کردیا تھا- حلیم عادل شیخ نے کہا کہ میرا قصور یہ ی ہے کہ میں عوام کے لئے آواز اٹھاتاہوں – انہوں نے کہا کہ سندھ میں پینے کا صاف پانی نہیں ہے – قائد حزب اختلاف نے کہا کہ مرتضیٰ  بھٹو کو ایک  سازش کے تحت قتل کیاگیا – قاتل پارٹی اب مجھے قتل کرانا چاہتی ہے- جس پر وزیر پارلیمانی امور مکیش کمار چاولہ نے کہا یہ  لوگوں کی زمینوں پر قبضے کیوں کرتے ہیں, لوگوں کی زمینیں واپس کریں اور کیس سے اپنی جان چھڑائیں – مکیش کمار نے حلیم عادل شیخ کے متعلق کہا کہ یہ سب سے بڑا لینڈ گریبر ہے – وزیر پارلیمانی امور مکیش کمار کے اس ریمارکس پر ایوان میں ہنگامہ آرائی شروع ہوگئی – پی ٹی آئی ارکان اپنی نشستوں سے اٹھ کھڑے ہوئے اور انہوں نے  اسپیکر ڈائس کے سامنے  جاکر احتجاج شروع کردیا – پی ٹی آئی ارکان اپنے ہاتھوں میں   پلے کارڈز اٹھائے ہوئے تھے – اس موقع پر وزیر محنت سعید غنی نے کہا کہ عمران نیازی کو خوش کرنے کیلیے یہ بدزبانی کرتاہے اس کی اتنی اوقات نہیں کہ کوئی اس کو قتل کرائے- انہوں نے کہا کہ سرکاری و نجی زمینوں پر قبضے کیے گئے, تیس سال کیلیے لی گئی زمینوں پر پلاٹنگ کی اجازت نہیں ہے- انہوں نے کہا کہ یہ شخص یہ پی ٹی آئی پر خود بوجھ ہے.