اسلام آباد(آن لائن) ایوان بالا میں اپوزیشن لیڈر ڈاکٹر وسیم شہزاد نے ضمنی انتخابات کو عوام کا فیصلہ قرار دیتے ہوئے حکومت سے فوری طور پر مستعفی ہونے کا مطالبہ کردیاجبکہ پیپلز پارٹی کی وفاقی وزیر شیری رحمن نے تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان پر خیرات کی رقم پارٹی پر خرچ کرنے کا الزام عائد کردیا۔جمعہ کے روز سینٹ اجلاس کے دوران اپوزیشن لیڈر ڈاکٹر شہزاد وسیم نے کہاکہ ایوان بالا کے سامنے اصل بجٹ پیش نہیں کیا گیا اور سینیٹ کے استحقاق کو مجروح کرتے ہوئے آئین کی پامالی کی گی انہوں نے کہاکہ 23جون کو سینیٹ کا اجلاس سفارشات پیش کرنے کے بعد ختم ہوا مگر 24جون کو حکومت نے سپر ٹیکس سمیت دیگر ٹیکسوں پر مشتمل بجٹ اس ایوان میں پیش کئے بغیر قومی اسمبلی سے منظور کرایا گیا۔ انہوں نے کہاکہ آئین کے مطابق تمام دستاویزات اس ایوان کے سامنے پیش کرنا ضروری تھا اور 27جون کو ہم نے استحقاق کی تحریک پیش کی تھی اس معاملے کو استحقاق کمیٹی کے سپرد کیا جائے انہوں نے کہاکہ موجودہ حکومت ملک میں کسی قسم کے قانون اور آئین کو تسلیم نہیں کرتی ہے حکومت نے این آر او حاصل کرنے کیلئے نیب ترمیمی بل اور انتخابی اصلاحات بل پر بحث کئے بغیر منظور کرایا گیا جس طرح یہ ملک چلا رہے ہیں اس طرح تو ایک دکان بھی نہیں چلتی ہے انہوں نے کہاکہ ضمنی الیکشن میں عوام نے حکومت کو آئینہ دکھا دیا انہوں نے کہاکہ سپیکر قومی اسمبلی نے تحریک انصاف کے 11اراکین اسمبلی کے استعفے منظور کئے جو کہ ایک مذاق ہے حکومت بوکھلاہٹ کا شکار ہے انہوں نے کہاکہ زمین گرمانے کی باتیں کرنے والے سن لیں کہ ان کے پاؤں کے نیچے زمین سکڑ چکی ہے۔ انہوں نے کہاکہ وزیر خارجہ کی جگہ ڈان لیکس کے طارق فاطمی امریکی حکام سے ملاقاتیں کر رہے ہیں اور بعد میں اس کو نجی دورہ کہا جاتا ہے۔ انہوں نے کہاکہ وزیر اعظم کے دورہ ترکی میں سلمان شہباز شمسی پینل کی ڈیل کرنے جاتے ہیں ایک جانب سے حکومت ڈالر کی کمی کا رونا رو رہی ہے جبکہ دوسری جانب سے ا مپورٹڈ پر تعیش اشیاء سے پابندیاں اٹھا رہے ہیں انہوں نے ملک بیچنا ہے۔انہوں نے کہاکہ این آر ٹو کے زریعے موجودہ رجیم اپنی فیس لے چکی ہے اس وقت سب سے خطرناک بات یہ ہے کہ اگر ملک معاشی طور پر ڈیفالٹ کر جائے تو اس کی ذمہ داری کس پر عائد ہوگی؟ انہوں نے کہاکہ حکومتی اداروں کی فروخت کیلئے شفافیت کو نظر انداز کر رہے ہیں اور ان کو اونے پونے فروخت کرنے کی سازشیں کی جارہی ہیں، یہ ملک ہے تو ہم ہیں ہمارا جینا مرنا اس ملک کے ساتھ ہے ہمیں سیاست کی بجائے ملکی مفاد کو آگے رکھنا ہوگا،بے یقینی کی کیفیت میں معیشت کو درست نہیں کیا جاسکتا ہے۔
Load/Hide Comments



