اسلام آباد (آن لائن)وزیراعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ ہم چور دروازے سے نہیں آئے، اسرائیل اور بھارت سے فنڈ عمران خان نے منگوایا۔اگر وہ راز کھول دوں تو یہ ایوان حیرت میں مبتلا ہو جائے گا، عدلیہ کا دہرا معیارنہیں ہونا چاہیے،انصاف کے بغیر ملک آگے نہیں چل سکتا۔ بدھ کو قومی اسمبلی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے شہباز شریف نے استفسار کیا کہ چیف الیکشن کمشنر 8 سال بعد بھی فارن فنڈنگ کیس کا فیصلہ کیوں نہیں کررہے؟۔وزیراعظم شہباز شریف نے کہا کہ یہ ایوان پاکستان کے آئین کی ماں ہے، 1973 کا آئین ایک متفقہ آئین تھا، پاکستان کے آئین کی تخلیق اسی ایوان سے ہوئی، اسی آئین نے پوری دنیا میں پاکستان کو مضبوط ملک کے طور پر پیش کیا، حاکمیت اللہ تعالیٰ کی ہے جو اسی آئین میں لکھا ہوا ہے، یہی آئین آنے والے دنوں میں بھی رہنمائی کرتا رہے گا، رکن اسمبلی کو اختیارعوام دیتے ہیں۔ انہوں نے کہا اگرآپ نے فیصلہ کرنا ہے تو پھر انصاف اورحق کی بنیاد پر کرنا ہو گا، یہ نہیں ہوسکتا میرے ساتھ اوردوسروں کے ساتھ اورسلوک کریں۔ اگر عدل انصاف نہیں ہو گا تو ملک آگے نہیں چل سکتا، عدلیہ کا دہرا معیارنہیں ہونا چاہیے۔انصاف کے بغیر ملک آگے نہیں چل سکتا،حضرت علیؓنے فرمایا تھا ظلم کی حکومت چل سکتی ہے عدل کے بغیر نہیں۔شہباز شریف نے کہا کہ آئین میں اداروں کے اختیارات مقرر کئے جا چکے ہیں، آئین اداروں کو بتاتا ہے کہ آپ نے اپنے دائرے میں رہ کر چلنا ہے لیکن 75 سال گزرنے کے باوجود آئین کے ساتھ کھلواڑ ہوتا رہا، ماضی میں کئی بار مارشل لا اس ملک پرمسلط رہے، مارشل لاء کے نتیجے میں ہی پاکستان دو لخت بھی ہوا۔وزیراعظم نے کہا کہ معاشی صورت حال ابتر اور پاکستان ڈیفالٹ کے قریب ہے مگر پی ڈی ایم سیاست کی جگہ ریاست کو دیکھتے ہوئے اقدامات کررہی ہے، بجلی اور تیل کی قیمتوں کا کنٹرول میرے پاس نہیں۔انہوں نے کہا نوجوان اور بزرگ پوچھتے ہیں کہ اس ملک سے مہنگائی کب ختم ہوگی؟انہوں نے کہا کہ 2018 کے انتخابات پاکستان کی تاریخ کے بدترین انتخابات تھے، 2018 میں دھاندلی کی پیداوار حکومت کو ہم پر مسلط کر دیا گیا، کس طرح رات کے اندھیرے میں آر ٹی ایس بند ہوا؟ ووٹوں کی گنتی کو ایک سابق چیف جسٹس کے حکم پر رکوایا گیا،دیہات میں نتائج شہروں کی نسبت پہلے آ گئے، انہوں نے ایوان سے استفسار کیا کہ کیا ہم چور دروازے سے آئے ہیں؟، اگر متحدہ اپوزیشن سیاست کو مقدم رکھتی تو پھر ریاست کا خدا حافظ تھا، ہم سب نے فیصلہ کیا کہ ریاست کو بچانا ہے، پاکستان کی معیشت کا جنازہ نکل رہا تھا، متحدہ اپوزیشن اس وقت سیاست کو مقدم رکھتی تو ریاست کوخطرہ تھا، ہم جانتے تھے کہ پاکستان ڈیفالٹ کے قریب تھا، جانتے تھے کہ تباہ حال معیشت کو دوبارہ زندگی دلوانا کوئی آسان کام نہیں ہے۔گزشتہ سالوں کے دوران 20 ہزار ارب سے زائد کے قرضے لئے گئے۔
Load/Hide Comments



