نیا 58 ٹو بی عدالت کے پاس چلا گیا ، ہماری غلطی تھی 19 ویں ترمیم نہیں کرنی چاہئے تھی،بلاول بھٹو

اسلام آباد(آن لائن) پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئر مین اور وزیر خارجہ بلاول بھٹو زرداری نے کہاہے افسوس سے کہنا پڑ رہا ہے نیا 58 ٹو بی عدالت کے پاس چلا گیا ہے، ہماری غلطی تھی ہمیں 19 ویں ترمیم نہیں کرنی چاہئے تھی،ایسے نہیں ہوسکتا ہمارے لیے ایک اورلاڈلے کے لیے دوسرا آئین ہو، آئین شکنی ہوئی اسے صاف کرنا اب ہماری ذمہ داری ہے، اگر یہ نہیں کرسکتے تو پارلیمنٹ کو تالہ لگانا چاہیے،ہمارا کام آئین بنانا اورعدلیہ کا کام تشریح کرنا ہے، خود ترمیم لانا نہیں، ایسا نہیں ہوسکتا تین جج آئین تبدیل کردیں، وقت آگیا ہے آئین کا دفاع کرنے کیلئے قانون سازی کریں،مشترکہ پارلیمانی کمیٹی بنادی جائے، ہم فیصلہ کریں گے کتنے ججز کو بنچ میں بیٹھنا چاہیے، اگراسپیکرکی رولنگ پرفیصلہ سنانا چاہتے ہیں تو سو بسم اللہ مگر پورے ججز کو بٹھانا ہو گا ۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے بدھ کو قومی اسمبلی کے اجلاس میں خطاب کرتے ہوئے کیا۔ وزیر خارجہ نے کہا کہ تمام سیاسی جماعتوں کا ایک ہی مطالبہ تھا، ہم کسی ادارے کو دباؤ میں ڈالنے کی کوشش نہیں کر رہے تھے، صرف یہ گزارش کی تھی فل کورٹ بیٹھ کر فیصلہ سنا دے، ہم نے کہا تھا فل کورٹ کا جو بھی فیصلہ ہوا ہم مانیں گے، یہ مطالبہ صرف وزیراعلیٰ پنجاب کے معاملے پر نہیں تھا، ڈپٹی سپیکررولنگ کے حوالے سے ہمارا فل کورٹ کا مطالبہ تھا۔ انہوں نے کہا کہ سابقہ حکومت نے آئین توڑا میرا تب بھی یہی مطالبہ تھا، آئین پاکستان کی تشکیل کے لیے 30 سال کا عرصہ لگا، شہید بے نظیربھٹونے آئین کی بحالی کے لیے جدوجہد کی، آئین میں ترمیم کے لیے دوتہائی اکثریت درکارہوتی ہے۔ صوبوں کوحقوق دینے کے لیے اٹھارویں ترمیم لائے، ہردن عوام کے مینڈیٹ اور جمہوریت پرحملے ہوتے رہے، عدلیہ بحالی تحریک، کراچی کے جیالوں کو گولیاں ماری گئیں، سابق چیف جسٹس افتخارچودھری ایسے فیصلے دیتے تھے جو آئین وقانون کے مطابق نہیں ہوتے تھے، ہم اپنا کام کرتے رہے اور جمہوریت کو بحال کیا، کبھی ٹماٹر، کبھی آلوؤں کی قیمت پر سوموٹولیتے تھے، ہم نے ملک اورقوم کے ساتھ جوڈیشل ریفارمز کا وعدہ کیا تھا۔ جوڈیشل ریفارمزیہ ہاؤس کرے گی۔پیپلز پارٹی کے چیئر مین کا کہنا تھا کہ مانتا ہوں دھمکی میں آکر19ویں ترمیم پاس کی، ہمیں آئین کوتبدیل نہیں کرنا چاہیے تھا، اس وقت کی اپوزیشن شائد اس قسم کی جوڈیشل ایکٹوزم سے خوش تھی، ٹوتھر?ڈ میجورٹی رکھنے والے وزیراعظم کو گھر بھیج دیا گیا، 2018ء کے الیکشن میں چند ججز کا رول تھا، صاف نظر آرہا تھا چند ججزالیکشن کمپین میں حصہ لے رہے تھے، ثاقب نثارہمارے خلاف الیکشن مہم چلارہا تھا، پولنگ والے دن فیصل صالح حیات الیکشن جیت رہا تھا، ثاقب نثارنے ری پولنگ کی مخالفت کی تھی، یہ جناب سپیکرمتنازعہ کردارہے۔بلاول بھٹو نے کہا کہ سلیکٹڈ نظام بٹھانے کے لیے کردار آئینی نہیں متنازع کردارادا کررہے تھے، ہم چاہتے ہیں وہ متنازع نہیں آئینی کردارادا کریں، اسٹیبلشمنٹ،عدلیہ کا کردارمتنازع نہیں ہونا چاہیے، یہی وجہ تھی ہم نے فل کورٹ کا مطالبہ کیا تھا، ایسے نہیں ہوسکتا ایک آئین نہیں، دوآئین اوردوپاکستان ہو، مجھے فرق نہیں پڑتا پرویزالہیٰ یا حمزہ شہبازوزیراعلیٰ پنجاب ہو، ایسے نہیں ہوسکتا ہمارے لیے ایک اورلاڈلے کے لیے دوسرا آئین ہو، ہمارا کام آئین بنانا اورعدلیہ کا کام تشریح کرنا ہے، خود ترمیم لانا نہیں، ایسا نہیں ہوسکتا کہ تین جج آئین تبدیل کردیں، جوڈیشل ریفارمزکرنے تک جمہوریت کا سفرنامکمل ہوگا۔اْنہوں نے مزید کہا کہ 2018ء کے انتخابات کے دوران ایسا لگتا تھا کہ کئی ججز انتخابی مہم میں حصہ لے رہے ہیں، سابق چیف جسٹس ثاقب نثار ہمارے خلاف مہم چلا رہے تھے، 2018 سے اپریل 2022 تک سلیکٹڈ حکومت کو بچانے کے لیے اداروں نے متنازعہ کردار ادا کیا، عدلیہ اور سٹیبلشمنٹ کا کردار غیر متنازعہ ہونا چاہیے، اسی لیے ہم نے فل کورٹ کا مطالبہ کیا تھا، ایسا نہیں ہو سکتا دو آئین پاکستان ہوں، ایک فیصلے کے مطابق پارٹی سربراہ کی ہدایات ضروری ہے، دوسرے فیصلے کے مطابق پارلیمانی پارٹی کی ہدایات ضروری ہیں، عدالتی اصلاحات کے بغیر جمہوریت کا سفر نا مکمل ہوگا، سپریم کورٹ کا مطلب صرف چیف جسٹس نہیں ہے، سپیکر صاحب میرا مطالبہ ہے مشترکہ پارلیمانی کمیٹی بنائی جائے، یہ ہم طے کریں گے پارلیمان سے متعلق کیسز میں کتنے ججز کو بیٹھنا چاہئیے، پارلیمان سے متعلق کیس میں تمام ججز کو بٹھا کر فیصلہ کرنا ہوگا۔