پارلیمنٹ کسی ادارے کو اختیارات سے تجاوز نہیں کرنے دیگی“قومی اسمبلی میں عدالتی اصلاحات کی قرارداد متفقہ طور پر منظور

اسلام آباد (آن لائن) ”پارلیمنٹ کسی ادارے کو اپنے اختیارات سے تجاوز نہیں کرنے دے گی“۔ سپریم کورٹ کی جانب سے وزیراعلیٰ پنجاب کے فیصلے کے بعد قومی اسمبلی میں عدالتی اصلاحات سے متعلق قرارداد متفقہ طور پر منظور کر لی گئی۔قومی اسمبلی اجلاس میں پیپلز پارٹی کے چیئرمین اور وزیر خارجہ بلاول بھٹو زرداری نے تجویز پیش کی تھی کہ اسپیکر آج ہی مشترکہ پارلیمانی کمیٹی بنائیں۔اجلاس کے آخر میں وفاقی وزیر قانون اعظم نذیرتارڑ نے عدالتیمیں کہا گیا ہے کہ قوانین کی منظوری اور آئین میں ترمیم صرف پارلیمنٹ کا حق ہے۔ آئین انتظامیہ، مقننہ اور عدلیہ کے درمیان اختیارات تقسیم کرتا ہے۔ ریاست کا کوئی بھی ستون ایک دوسرے کے اختیارات میں مداخلت نہیں کر سکتا۔ آرٹیکل 175 اے کے تحت اعلیٰ عدلیہ میں ججوں کے تقرر کی توثیق بھی پارلیمنٹ کا اختیار ہے کیونکہ پارلیمنٹ عوامی امنگوں کی نمائندہ ہے۔ قرارداد کے مطابق پارلیمنٹ کسی ادارے کو اپنے اختیارات سے تجاوز کی اجازت نہیں دے گی۔ وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ کا قومی اسمبلی سے خطاب میں کہنا تھا کہ قانون سازوں کو قانون سازی کا کردار دیا گیا ہے، مقننہ اس پر عمل در آمدکرے اور عدلیہ اس پر فیصلے کرے۔ اعظم نذیر تارڑ کا کہنا تھا کہ ایک عضو دوسرے عضو کے اختیارات میں مداخلت نہیں کر سکتا،کسی ادارے کو اجازت نہیں دی جا سکتی کہ وہ پارلیمنٹ پر قبضہ کرے، عدالتی اصلاحات وقت کی ضرورت ہیں۔