پنجاب بجٹ 13 جون کواسمبلی میں پیش ہوگا ، کل حجم 5370 ارب روپے متوقع

پنجاب کا بجٹ13 جون کو اسمبلی میں پیش ہوگا، جس کا کل حجم 5370 ارب روپے متوقع ہے۔

ذرائع محکمہ خزانہ پنجاب کے مطابق صوبائی وزیر خزانہ مجتبیٰ شجاع الرحمان بجٹ پیش کریں گے ، پنجاب کو 3700 ارب وفاق سے این ایف سی کے تحت ملنے کا امکان ہے جبکہ پنجاب میں ذرائع آمدن کی مد میں محصولات کا ہدف ایک ہزار 26 ارب روپے ہوگا ۔

ذرائع کے مطابق بجٹ میں تنخواہوں کی مد میں 595 ارب اور پنشن کی مد میں 445 ارب روپے رکھے جائیں گے ، سروس ڈلیوری اخراجات کا تخمینہ 840 ارب روپے لگایا گیا ہے۔

ذرائع کا بتانا ہے کہ ترقیاتی بجٹ کا حجم 700ارب روپے مختص کرنے کی تجویز ہے جبکہ لاہور رمضان پیکج 30 ارب، سی بی ڈی کو 8 ارب دیئے جائیں گے، آئندہ مالی سال میں 1863 سکیموں کو مکمل کیا جائیگا۔

ذرائع کے مطابق آئندہ مالی سال میں 1617 جاری جبکہ 246 نئی سکیمیں مکمل کرنے کی تجویز ہے جبکہ سب سے زیادہ بجٹ روڈ سیکٹر سکیموں کیلئے 1 کھرب 21 ارب 74 کروڑ 60 لاکھ مختص کیا گیا ہے۔

بجٹ میں سپیشل ایجوکیشن کیلئے دو ارب، رسمی و غیر رسمی تعلیم کیلئے تین ارب 50 کروڑ مختص کیے گئے ہیں ۔

ذرائع کے مطابق صوبائی بجٹ میں سپورٹس اینڈ یوتھ افیئر کے لیے چار ارب 87 کروڑ 50 لاکھ مختص کیے گئے ہیں جبکہ سپیشلائزڈ ہیلتھ کیئر 76 ارب 61 کروڑ 50 لاکھ ، پرائمری ہیلتھ کیئر کے لیے 33 ارب 89 کروڑ 70 لاکھ مختص کیے گئے ہیں ۔

صوبائی بجٹ میں پاپولیشن ویلفیئر تین ارب، واٹر سپلائی اینڈ سینیٹیشن 8 ارب نو کروڑ 90 لاکھ مختص کیے گئے ہیں۔

ذرائع کے مطابق متوقع بجٹ میں سوشل ویلفیئر ایک ارب پانچ کروڑ 79 لاکھ ، ویمن ڈیویلپمنٹ کیلئے 92 کروڑ 60 لاکھ رکھے گئے ہیں۔

ذرائع محکمہ خزانہ پنجاب کے مطابق لوکل گورنمنٹ کیلئے 14 ارب چارکروڑ 80 لاکھ مختص کیے گئے ہیں ، بجٹ کی حتمی منظوری اسمبلی اجلاس سے پہلے کابینہ دے گی۔