اسلام آباد (آن لائن) وفاقی وزیر اطلاعات مریم اورنگزیب نے کہا ہے کہ حکومت پیمرا قوانین میں ترمیم لا رہی ہے، اس سلسلے میں جوائنٹ ایکشن کمیٹی کے ساتھ بات چیت چل رہی ہے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے سینیٹر فیصل جاوید کی زیر صدارت منعقد ہونے والے سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کے اجلاس کے دوران کیا، وفاقی وزیر اطلاعات نے اجلاس میں خصوصی شرکت کی، اجلاس میں گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا حکومت پیمرا قوانین میں ترمیم لا رہی ہے اور پیمرا کے حوالے سے ترمیم میں جوائنٹ ایکشن کمیٹی کے ساتھ بات چیت چل رہی ہے،ہم جوائنٹ ایکشن کمیٹی کی مشاورت سے ترامیم لا رہے ہیں جو بھی ترمیم ہوگی اس میں تمام اسٹیک ہولڈرز کو ساتھ لے کر چلیں گے، سابق دور میں تنخواہیں ادا نہ کرنے والے میڈیا ہاؤسز کے اشتہارات بند نہیں کئے گئے اور نہ ہی انہیں صحافیوں کی تنخواہوں کی ادائیگی سے منسلک کیا گیا، انہوں نے کہا ورکرز کی تنخواہوں اور کنٹریکٹ کے حوالے سے قانون لایا جا رہا ہے،ان کا کہنا تھا کہ سابق وزیر اطلاعات فواد چوہدری نے اپنے دور میں چینلز کی کیٹیگری تبدیلی کی، 2019ء میں سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد چینلز کی درجہ بندی کی گئی۔ اس سے قبل اے، بی اور تھری کیٹیگری کے لحاظ سے اشتہارات دیئے جاتے تھے۔ اس درجہ بندی سے قبل پی آئی ڈی کا اشتہارات کا نظام بھی شفاف تھا،،چینلز کی درجہ بندی پروگرام اور وقت کے حساب سے کی گئی، اشتہارات کے اجراء میں شفافیت کو یقینی بنایا گیاچینل کے ساتھ کوئی امتیازی سلوک نہیں رکھا گیا، انہوں نے کہا 2013ء کے بعد پاکستان کے 70 سال مکمل ہونے پر بھی اشتہارات جاری کئے، گئے۔ حکومت آزادی صحافت پر کامل یقین رکھتی ہے، سابق دور میں صحافیوں کو اغواء اور ان پر تشدد کے واقعات رونما ہوئے، ہمارے دور میں کوئی ایسا واقعہ پیش نہیں آیا، و زارت اطلاعات کی جانب سے کمیٹی کو 2008ء سے 2013ء، 2013ء سے 2018ء اور 2018ء سے 2022ء تک حکومت کی جانب سے الیکٹرانک اور پرنٹ میڈیا کو جاری کئے جانے والے اشتہارات پر خرچ ہونے والی رقم اور ادائیگیوں کے طریقہ کار کی تفصیلات سے آگاہ کیا گیا،کمیٹی کو وزارت اطلاعات کی طرف سے بتایا گیا کہ وزارت اطلاعات پانچ مرحلوں میں اشتہارات جاری کرتی ہے،پرنسپل انفارمیشن آفیسرنے بتایا وفاقی سرکاری اداروں کی طرف سے اشتہارات کی منظوری کے بعد پریس انفارمیشن ڈیپارٹمنٹ ادارے کی ضرورت کے مطابق اشتہارات جاری کرتا ہے، یہ اشتہارات پبلی کیشنز کو پی آئی ڈی سے براہ راست جاری کئے جاتے ہیں، حکومت اور وزارت اطلاعات کی طرف سے اشتہارات کے اجراء اور ادائیگیوں میں شفافیت کو یقینی بنایا جاتا ہے۔ 2013 سے 2018ء تک وزارت کی طرف سے الیکٹرانک میڈیا کو اشتہارات دیئے گئے،2018ء سے آؤٹ ڈور کمپین شروع کی گئی، 2013ء سے 2015ء تک آپریشن ضرب عضب کے حوالے سے بھی اشتہارات دیئے گئے، چیئرمین کمیٹی نے کہا چینلز کی درجہ بندی اور ٹی وی چینلز کو جاری کئے جانے والے اشتہارات کا ریکارڈ فراہم کیا جائے، کمیٹی کو تمام صوبائی حکومتوں بشمول گلگت بلتستان اور آزاد جموں و کشمیر کیلئے پی ٹی وی کی کوریج کے حوالے سے بھی آگاہ کیا گیا، اجلاس میں کمیٹی کے یکم جون 2022ء کو ہونے والے اجلاس کی سفارشات اور فیصلوں پر عمل درآمد کی رپورٹ پیش کی گئی، اجلاس میں کمیٹی کے ارکان کے علاوہ وفاقی وزیر اطلاعات مریم اورنگزیب، وفاقی سیکرٹری اطلاعات شاہیرہ شاہد، پرنسپل انفارمیشن آفیسر سید مبشر حسن اور وزارت اطلاعات کے دیگر اعلیٰ حکام نے شرکت کی۔
Load/Hide Comments



