اضافی گندم درآمد کے ذمہ داروں کو سامنے لایا جایے گا اور اس معاملے کو منطقی انجام تک پہنچایا جائے گا، وزیراعظم

اسلام آباد (آن لائن) وزیراعظم میاں محمد شہباز شریف نے گندم درآمد سکینڈل کی تحقیقات کیلیے قائم کمیٹی کی رپورٹ پر عدم اطمینان اور ذمہ داروں کا تعین نہ کرنے پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے وفاقی سیکرٹری کابینہ کی سربراہی میں نئی چار رکنی انکوائری کمیٹی تشکیل دے دی ہے جو کہ چار دن میں اپنی رپورٹ دے گی،نئی انکوائری کمیٹی یہ بھی طے کرے گی کہ موجودہ حکومت کے پہلے ایک ماہ میں چھ لاکھ ٹن سے زائد گندم درآمد کرنے کی اجازت کس نے دی کمیٹی ذمہ داروں کا تعین۔ کرے گی اور اپنی رپورٹ وزیراعظم کو پیش کرے گی۔ وزیر اعظم نے واضح کردیا کہ اضافی گندم درآمد کے ذمہ داروں کو سامنے لایا جایے گا اور اس معاملے کو منطقی انجام تک پہنچایا جائے گا۔ رپورٹ میں گندم درآمد کے ذمہ داروں کا واضح تعین نہ ہونے پر برہمی بھی ظاہر کی ہے اسی لیے انہوں نے اضافی گندم درآمد کی تحقیقات کے لیے قائم کمیٹی کی رپورٹ کا جائزہ لینے کے لیے ایک اور چار رکنی کمیٹی قائم کردی جس کی سربراہی سیکرٹری کابینہ ڈویژن کامران علی افضل کرینگے کمیٹی ممبران میں شکیل احمد منگنیجو، ایڈیشنل سیکرٹری امجد محمود،ایڈیشنل سیکرٹری وزارت تجارت حسن علی منگی شامل ہیں یہ کمیٹی اضافی گندم درآمد کے حوالے سے قائم کی گئی انکوائری کمیٹی کی رپورٹ کا جائزہ لے گی چار رکنی کمیٹی ایل سیز کو اوپن کرنے اور فروری کے بعد گندم درآمد کرنیوالے ذمہ دارارن کا تعین بھی کرے گی۔کمیٹی کو چار دن میں اپنی رپورٹ وزیر اعظم کو پیش کرنے کی ہدایت کی گئی ہے وزارت فوڈ سیکیورٹی نئی چار رکنی کمیٹی کو سیکرٹریٹ سپورٹ فراہم کرنیکی پابند ہوگی۔