لاہور (آن لائن) روڈ ٹو مکہ منصوبے کا پاکستان سے آغاز کر دیا گیا ہے، روڈ ٹو مکہ منصوبے کے پاکستان کے آغاز پر سعودی عرب کی حکومت کا شکریہ ادا کرتیہیں، طریق مکہ منصوبے میں پاکستان دنیا کے پانچ ممالک میں سے ایک ہے جس کو سعودی قیادت کے حکم پر سعودی وزیر داخلہ نے شامل کیا ہے۔یہ بات پاکستان علما کونسل کے مرکزی چیئرمین و سیکرٹری جنرل انٹرنیشنل تعظیم حرمین شریفین کونسل اور وزیر اعظم کے نمائندہ خصوصی برائے بین المذاہب ہم آہنگی و مشرق وسطی حافظ محمد طاہر محمود اشرفی نے ذرائع ابلاغ سے گفتگو کرتے ہوئے کہی۔انہوں نے کہا کہ طریق مکہ پروگرام کے مطابق عازمین حج کی امیگریشن اب جدہ ائیر پورٹ کی بجائے پاکستان کے ائیر پورٹ پر ہی ہو جائے گی اور عازمین حج کو اب جدہ ائیر پورٹ پر امیگریشن مسائل کا سامنا نہیں کرنا پڑے گا۔ اسلام آباد ائیر پورٹ پر ہی خروج اور دخول یعنی انٹری اور ایگزٹ کی سہولت میسر ہو گی۔ پاکستان سے 42 پروازوں کے ذریعے 14007 عازمین حج اس منصوبے سے مستفید ہوں گے۔ روڈ ٹو مکہ منصوبہ پاکستان اور سعودی عرب دوستی اور پاکستان سعودی عرب تعلقات کی مضبوطی کی دلیل ہے۔حافظ محمد طاہر محمود اشرفی نے سعودی حکام کی طرف سے آئندہ سال منصوبے میں حج پروازوں اور عازمین حج کی تعداد کو بڑھانے کے اعلان پر سعودی حکام کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کی حکومت اور عوام،سعودی عرب کی حکومت خصوصاً خادم الحرمین الشریفین شاہ سلمان بن عبد العزیز اور ان کے ولی عہد امیر محمد بن سلمان اور سعودی وزیر داخلہ امیر عبد العزیز بن سعود بن نائف کی اس محبت پر شکریہ ادا کرتے ہیں اور سمجھتے ہیں کہ جس طرح سعودی عرب کی حکومت روز و شب حجاج کرام و زائرین کی خدمت میں مصروف ہے۔ روڈ ٹو مکہ پروگرام اسی خدمت کا ایک خوبصورت منصوبہ ہے اور اس میں پاکستان کو شامل کرنا پاکستان سعودی عرب تعلقات کی مضبوطی اور محبت کی دلیل ہے۔ انہوں نے اس موقع پر پاکستان میں سعودی عرب کے سفیر نواف سعید المالکی کا بھی شکریہ ادا کیا جنہوں نے اس حوالے سے بھرپور کردار ادا کرتے ہوئے پاکستان کیلئے اس عمل کو ممکن بنایا۔ انہوں نے کہاکہ میں حکومت پاکستان اور پاکستان کی عوام بالخصوص وزیر اعظم پاکستان میاں شہباز شریف اور وفاقی وزیر داخلہ رانا ثنا اللہ کی طرف سے بھی اس منصوبے میں پاکستان کو شامل کرنے پر شکریہ ادا کرتا ہوں۔
Load/Hide Comments



