ریاض(آن لائن) سعودی عرب کی وزارت ماحولیات، پانی اور زراعت نے بتایا ہے کہ آئندہ دسمبرمیں کوپ 16کے لیے سعودی عرب کی میزبانی کے معاہدے پر دستخط کے موقع پر زمین کے تحفظ اور صحرا بندی کا مقابلہ کرنے کے حوالے سے اقوام متحدہ کی کانفرنس کی اہمیت اس لیے سامنے آتی ہے کہ اس کا تعلق زمین کی بحالی سے ہے۔وزارت زراعت کا کہنا تھا کہ99 فی صد خوراک زمین سے آتی ہے، جبکہ نباتات دنیا میں تقریبا 75 تازہ پانی کا ذخیرہ اور جنگلات اور چراگاہوں میں موجود پودوں کا احاطہ حیاتیاتی تنوع کا تقریبا 90 فی صد حصہ ہے۔ریاض کانفرنس کوپ16 کی میزبانی کرتے ہوئے سعودی عرب ان 197 ممالک کے درمیان تعاون کو مضبوط بنانے کے لیے کام کررہا ہے جنہوں نے صحرا بندی سے نمٹنے کے لیے اقوام متحدہ کے کنونشن پر دستخط کیے ہیں، اور لاکھوں ہیکٹر تباہ شدہ زمینوں کی بحالی کے لیے موثر حل تلاش کرنے کے لیے صلاحیتوں کو متحرک کیا ہے۔بین الاقوامی رپورٹس اورمطالعات کے مطابق دنیا بھرمیں تقریبا تین ارب لوگ زمینی انحطاط سے متاثر ہیں۔اس تنزلی کے نتیجے میں ہونے والے نقصانات کا تخمینہ تقریبا 6 ٹریلین ڈالرلگایا گیا ہے۔ مختلف اقسام کی زمینوں کو محفوظ رکھنے اوران کی تنزلی کو کم کرنے کے لیے دنیا کے ممالک کو متحرک کرنے میں سعودی عرب گہری دلچسپی دکھا رہا ہے۔ماحولیات، پانی اور زراعت کے نظام کی قیادت میں کی جانے والی کوششوں نے 90 ہزارہیکٹر سے زیادہ اراضی کو محفوظ کرنے اور پودوں کی نشوونما کے لیے 50 ملین سے زائد درختوں کی شجرکاری کو مکمل کرنے کے لیے گذشتہ سال کے دوران بیداری کے بہت سے اقدامات شروع کرنے کے ساتھ ساتھ اور ایسے پروگرام جنہوں نے معاشرے کے تمام طبقات میں ماحولیاتی بیداری کے تناسب کوبڑھانے میں کردار ادا کیا۔اس کے علاوہ مملکت میں دھول کے طوفان کا فیصد 10فی صد ریکارڈ کیا گیا۔اقوام متحدہ کے کنونشن ٹوکمبیٹ ڈیزرٹیفیکیشن کے جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق دنیا کی زمینوں کا چالیس فی صد حصہ تنزلی کا شکار ہے۔ اسے نصف انسانیت متاثر ہو رہی ہے اور 2030 تک 1.5 بلین ہیکٹر تباہ شدہ زمینوں کو بحال کرنے کا ہدف ہوگا۔
Load/Hide Comments



