اسلام آباد /تہران (آن لائن)وزیر خارجہ بلاول بھٹو زرداری نے کہا ہے کہ بھارت میں حالیہ اسلامو فوبیا کے واقعات کی عالمی دنیا کو مذمت کرنا ہوگی، روس یوکرین معاملے پر کل بھی نیوٹرل تھے اور آج بھی ہیں، جنگ کی وجہ سے ہمیں فوڈ سکیورٹی کا چیلینج درپیش ہے، مہنگائی کی صورت میں لڑائی کا پاعوام سمیت دنیا بھر کو نقصان ہورہا ہے، عمران خان کے خلاف تحریک عدم اعتماد کا ان کے دورہ روس سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ وزیر خارجہ بلاول بھٹو زرداری نے اپنے دورہ ایران کے موقع پر تہران میں اپنے ایرانی ہم منصب حسین امیر عبداللہیان سے ملاقات کے بعد مشترکہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ ایران پاکستان کا سب سے اہم ہمسایہ ہے، ایرانی وزیر خارجہ سے اسلامو فوبیا کے معاملے پر بھی بات ہوئی ہے، بھارت میں حالیہ اسلامو فوبیا کے واقعات کی عالمی دنیا کو مذمت کرنا ہوگی۔بلاول بھٹو نے کہا کہ پاکستان اور ایران کے درمیان تاریخی تعلقات ہیں اور ان تعلقات کو مزید بہتر بنانا اور نئی بلندیوں لے جانا چاہتے ہیں، ایرانی ہم منصب سے ملاقات میں دو طرفہ تعلقات پر بات ہوئی ہے جس میں سرحدی امور اور زائرین کی سہولتوں کے حوالے سے بات چیت بھی کی گئی اور طے کیا گیا کہ دونوں ممالک کے عوام کیلئے اقتصادی مواقع کو فروغ دیں گے۔ ایران سے مقبوضہ کشمیر میں جاری انسانی حقوق کی خلاف ورزی کا معاملہ بھی اٹھایا ہے جب کہ توانائی سے متعلق معاملات پر بھی بات چیت ہوئی ہے۔وزرائے خارجہ کی ملاقات کے دوران ایرانی وزیر خارجہ حسین امیر عبداللہیان نے اپنے پاکستانی ہم منصب بلاول بھٹو کو ان کی والدہ اور سابق وزیراعظم بینظیر بھٹو کے دورہ ایران کا یادگاری البم تحفے میں پیش کیا۔ قبل ازیں ایران روانگی کے موقع پر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ روس یوکرین معاملے پر کل بھی نیوٹرل تھے اور آج بھی ہیں، روس یوکرین جنگ سے پہلے پاکستان یوکرین سے کھاد، گندم اور دیگر غذائی اجناس خرید رہا تھا، جنگ کی وجہ سے ہمیں مزید فوڈ سیکیورٹی کا چیلنج درپیش ہے، ہم چاہتے ہیں تنازعہ فریقین کے درمیان سفارتکاری اور بات چیت سے حل ہو، چاہتے ہیں یہ جنگ جلد ختم ہو، مہنگائی کی صورت میں اس جنگ کا پاکستان کے عوام سمیت دنیا بھر کو نقصان ہورہا ہے۔ ایک سوال پر وزیر خارجہ نے کہا کہ سابق وزیراعظم عمران خان کے دورہ روس کو اس کے خلاف عدم اعتماد سے جوڑنا بہت بڑی غلط فہمی ہے، عمران خان کے خلاف تحریک عدم اعتماد کا ان کے دورہ روس سے کوئی تعلق نہیں ہے۔اس کا ثبوت ہے روس یوکرین تنازعہ میں عمران حکومت کی طرح ہم بھی غیرجانبدار ہیں، اگر دورہ روس پچھلی حکومت جانے کی وجہ ہوتی تو اس جنگ بارے ہمارا موقف مختلف ہوتا۔ بلاول بھٹو زرداری کا کہنا تھا کہ ایران پاکستان گیس پائپ لائن کی بنیاد آصف زرداری نے رکھی تھی، اس منصوبے میں پابندیوں کو مدنظر رکھ کر مثبت پیشرفت چاہتے ہیں، پاک ایران تعلقات میں کافی گنجائش موجود ہے۔ وزیر خارجہ کاکہنا تھاکہ وہ ذاتی طور پر زرعی زمین پر رئیل اسٹیٹ کے کام کے خلاف ہیں، زرعی نظام بہتر کیا جائے تو نہ صرف ملکی غذائی ضروریات پوری کی جاسکتی ہیں بلکہ غذائی اشیاء برا?مد بھی کی جاسکتی ہیں۔
Load/Hide Comments



