اسلام آباد (آن لائن) ماہرین صحت نے حکومت کی جانب سے تمباکو کی مصنوعات پر ٹیکس بڑھانے کے فیصلے پر اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے اسے درست سمت میں پہلا قدم قرار دیا ہے۔ تمباکوٹیکس میں اضافہ نہ صرف تمباکو کے استعمال اور اس کی رسائی کو کم کرے گا بلکہ نابالغوں کو تمباکو سے دور رکھنے میں بھی مددگار ثابت ہوگا۔ سوسائٹی فار پروٹیکشن آف رائٹس آف دی چائلڈ (سپارک) کی طرف سے جاری کی گئی ایک پریس ریلیز میں ماہرین صحت نے حکومت کی طرف سے چار سالوں میں پہلی بار ٹیکسوں میں اضافے کے اقدام کو سراہا۔ ماہرین نے لاکھوں زندگیوں کو تمباکو کے نقصانات سے بچانے کے لیے مستقبل کے لیے اپنی سفارشات بھی پیش کیں۔ملک عمران احمد، کنٹری ہیڈ کمپین فار ٹوبیکو فری کڈز نے کہا کہ ہر سال تمباکو کی صنعت پالیسی سازوں کو دھوکہ دہی دینے کی کوشش کرتی ہے جس سالانہ ایک لاکھ ستر ہزار سے زیادہ لوگوں کی جانیں ضائع ہو رہی ہیں جو تمباکو کی مصنوعات کے استعمال سے پیدا ہونے والی اور بڑھتی ہوئی بیماریوں کا شکار ہوکر اپنی جانیں کھو بیٹھتے ہیں۔ انہوں نے اس بات پر اطمینان کا اظہار کیا کہ اس سال حکومت نے تمباکو کی بڑی صنعت کی فریب کاریوں پر کان نہیں دھرے اور تمباکو کی مصنوعات پر ٹیکس بڑھا دیا۔سپارک کے پروگرام مینیجر خلیل احمد ڈوگر نے کہا کہ حکومت کو مالی سال 2022-23 کے لیے تمباکو کی مصنوعات پر ٹیکسوں کو حتمی شکل دیتے ہوئے مہنگائی کی بڑھتی ہوئی شرح پر غور کرنا چاہیے تھا۔ انہوں نے کہا کہ مہنگائی میں اضافے اور ڈالر کی قیمت میں اضافے کی وجہ سے تمباکو کی قیمتیں اسی حساب سے بڑھائی جائیں۔ انہوں نے کہا کہ اگرچہ یہ ایک چھوٹا قدم ہے لیکن یہ درست سمت میں ہے کیونکہ تمباکوٹیکس میں اضافہ نہ صرف تمباکو کے استعمال اور اس کی رسائی کو کم کرے گا بلکہ نابالغوں کو تمباکو سے دور رکھنے میں بھی مددگار ثابت ہوگا۔شارق احمد، سی ای او، کرومیٹک ٹرسٹ نے کہا کہ ملک کو غربت کے بحران سے نمٹنے کے لیے فنڈز کی شدید کمی کا سامنا ہے۔ حکومت کو تمباکو کی بڑی صنعت کی طرف سے پیش آنے والے کسی بھی چیلنج پر قابو پانے کے لیے ثابت قدم رہنے کی ضرورت ہے۔ اس سلسلے میں اگلے اقدامات گرافک ہیلتھ وارننگز، پروموشن اور اشتہارات پر پابندی، اور تمباکو نوشی سے پاک مقامات سے متعلق قوانین کا سختی سے نفاذ ہیں۔
Load/Hide Comments



