ا سلام آباد(آن لائن) پبلک اکاؤنٹس کمیٹی نے سی ڈی اے کے تمام افسران کے اثاثوں کی تفصیلات طلب کرلیں۔ پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کا ئیرمین کمیٹی نور عالم خان کی زیر صدارت اجلاس منعقد ہوا۔ اجلاس میں سی ڈی اے کے تمام افسران کے اثاثوں کی تفصیلات طلب کر لی گئیں۔ چئیرمین کمیٹی نور عالم خان نے کہا سی ڈی اے افسران گفٹس کی تفصیلات میں ایک ماہ میں جمع کرائیں۔ انہوں نے کہا سی ڈی اے افسران اپنی فیملی اور بہن بھائیوں کے اثاثوں کی تفصیلات پیش کریں۔ اجلاس میں کمیٹی نے چیف کمشنر اسلام آباد کو ہدایت کی کہ گریڈ 17 سے 22 تک تمام سی ڈی اے افسران کی تفصیلات پیش کریں۔ پبلک اکاؤنٹس کمیٹی نے سیکرٹری داخلہ کو ناکوں پر موجود پولیس، ایف سی اور رینجرز کیلئے بہترین کھا نا فراہم کرنے کی ہدایت بھی کی۔ چئیرمین کمیٹی نور عالم خان نے کہا ناکوں پر اہلکار ہمارے تحفظ کیلئے موجود ہوتے ہیں۔ انہوں نے کہا افسران ناکوں پر سے گزرتے ہیں اے سی والی گاڑیوں میں موجود ہوتے۔ جبکہ غریب اہلکاروں کوکھانا وقت پر ملتا ہے اور نہ پانی۔ انہوں نے کہا سی ڈی اے حکام اپنا کام بروقت کرے۔ کمیٹی میں سی ڈی اے سے کتنے لوگ آئے ہے، کھڑے ہوجائیں۔ پی اے سی اجلاس کے دوران 8 سے ذائد افراد کھڑے ہوگئے۔ جس پر نور عالم خان نے کہا آپ لوگوں کو کس نے بلایا ہے۔ چئیرمین سی ڈی اے صاحب کیا اپ نے ان لوگوں کو بلایا ہے، چئیرمین سی ڈی اے نے کہا ہم نے انکو نہیں بلایا۔ جس پر، نور عالم خان نے کہا تو پھر یہ لوگ یہاں پر موجود ہے پیچھے دفاتر میں کون کام کریں گا۔ آپ سب لوگ اپنے دفاتر چلے جائیں۔ یہ جو افسران بغیر دعوت آئے ہے انکے خلاف کاروائی کی جائے۔پی اے سی ممبران نے سفارش کرتے ہوے کہا چئیرمین صاحب اس بار چھوڑ دے ائندہ اس طرح ہو تو کارروائی کی جائے۔ ، نور عالم نے کہا پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کی نشریات لائیو ہونی چاہیے۔ پبلک اکاونٹس کمیٹی کی نشریات لائیو ہونگی تو عوام کو پتہ چلے گا کیا ہو رہا ہے۔ کمیٹی جوممبران نہیں آتے یا لیٹ آ تے ہیں انکا بھی پتہ چلے۔ کمیٹی نے اسلام آباد کی نجی ہاؤسنگ سوسائٹیوں کی تفصیلات طلب کر لیں۔ نور عالم نے کہا اسلام آباد میں گاڑی کی رجسٹریشن کروانے گیا تو رشوت کا ماحول بنا ہوا تھا۔ خود دیکھا،ماسک پہنا ہوا تھا،رشوت کا بازار گرم تھا۔ ہر آفیسر کا ٹاوٹ پھر رہا تھا،آفر کر رہا تھا۔ ماسک ہٹایا تو کہنے لگے سر،سر،،،،میں کہا شرم نہیں آتی۔ انہوں نے کہا وفاق میں رشوت کا یہ حال ہے تو باقی علاقوں میں کیا ہو گا۔ انہوں نے کہا اسلام آباد انتظامیہ معاملہ دیکھے اور لمبے تعینات ایک ہی سیٹ پر تعینات ہونے والوں کو تبدیل کیا جائے۔
Load/Hide Comments



