اسلام آباد(آن لائن) ایوان بالا میں اپوزیشن اراکین نے نیب آرڈیننس اور الیکشن ترمیمی بلز پر بات کرنے کی اجازت نہ ملنے پر ایوان سے احتجاجاً ٹوکن واک آؤٹ کیا اور این آر او نامنظور کے نعرے لگاتے رہے۔ سینٹ اجلاس کے دوران اپوزیشن لیڈر ڈاکٹر شہزاد وسیم نے کہاکہ پارلیمنٹ کے فورم پر عوامی امنگوں کے مطابق فیصلے ہونے چاہیے اور قانون سازی پر مشاورت کی جائے،موجودہ حکومت نے نیب آرڈیننس بل اور الیکشن ترمیمی بل جس طریقے سے منظور کئے گئے اور آج مشترکہ اجلاس سے دونوں بلوں کو منظور کرنے کا جو منصوبہ بنایا گیا ہے یہ انتہائی افسوسناک عمل ہے، ایوان میں ان بلز پر بولنے کی اجازت نہیں دی جاتی ہے نہ ہی بلز کو کمیٹی میں بھجوایا جاتا ہے یہ قانون سازی کا کوئی طریقہ نہیں ہے، یہ ان قوانین کو بلڈور کر رہے ہیں جوقومی اہمیت کے حامل قوانین ہیں،انہوں نے کہاکہ ایمپورٹڈ حکومت کی ترجیح اپنے کسیز معاف کران اور این آر اواور عوام کو تکلیف دینا ہے انہوں نے کہاکہ سب سے پہلے حکومت میں آنے کے بعد اپنے نام ای سی ایل سے نکالے افسران کو تبدیل کیا ریکارڈ میں ردوبدل کیا گیا اور سپریم کورٹ نے ان معاملات پر سوموٹو لیا ہے انہوں نے مطالبہ کیا کہ ایوان میں ان معاملات پر اراکین کو بولنے کا موقع دیا جائے جس پر چیرمین سینیٹ نے کہاکہ پہلے ایوان میں بزنس پورا کیا جائے اس کے بعد بات کریں جس پر اپوزیشن لیڈر نے کہاکہ اپوزیشن دوسری این آر او لینے کی کوشش کررہی ہے اس موقع پر اپوزیشن اراکین نے این آر او این آر او کے نعرے لگائے جس پر وزیر مملکت نے کہاکہ یہ ترامیم عمران خان حکومت نے پیش کی تھی تاہم وہ اس کو ایوان میں لانے کی ہمت نہ کرسکے اس موقع پر اپوزیشن لیڈر نے کہاکہ ہمارے ممبران کو بولنے کی اجازت دیں یہ بہت اہم قومی معاملہ ہے امپورٹڈ حکومت ختم ہونے جارہی ہے جس پر چیرمین سینیٹ نے کہاکہ یہ معاملہ مشترکہ اجلاس میں جاچکا ہے اس پر وہاں احتجاج کریں اس ایوان میں جو بزنس باقی ہے پہلے اس کو مکمل کریں گے اس موقع پر اپوزیشن اراکین ایوان میں مسلسل نعرے بازی کرتے رہے اور ایوان سے احتجاج واک آوٹ کیا۔
Load/Hide Comments



