اسلام آباد، لندن(آن لائن) نگراں وزیرِ اعظم انوار الحق کاکڑ نے کہا ہے کہ یقین دلاتا ہوں کہ انتخابی عمل مکمل صاف و شفاف اور آزادانہ ہو گا،انتخابات میں ؎ کسی خاص گروپ کی حمایت یا مخالفت نہیں کی جائے گی،پی ٹی آئی سربراہ امریکا پر سازش کے بیانیے سے خود ہی پیچھے ہٹ گئے، بعض اوقات سیاست دان عوامی حمایت حاصل کرنے کے لیے ایسا مؤقف اپنا لیتے ہیں۔ کوئی بھی بیرونی طاقت پاکستان کے اندرونی معاملات میں مداخلت نہ کرے، پاکستان آزاد اور خود مختار ملک ہے، ہم اپنے قومی مفاد میں فیصلے کرتے ہیں۔ترک ٹی وی کو انٹرویو میں نگراں وزیرِ اعظم انوار الحق کاکڑ نے کہا ہے کہ یقین دلاتا ہوں کہ انتخابی عمل مکمل صاف، شفاف اور آزادانہ ہو گا، انتظامی سطح پر کسی خاص گروپ کی حمایت یا مخالفت نہیں کی جائے گی۔ان کا کہنا ہے کہ انتخابی حلقہ بندیاں آئینی ضرورت ہیں، انتخابی حلقہ بندیوں پر اعتراض سابق پارلیمنٹ میں قانون سازی کے وقت کیا جا سکتا تھا، ہم نے قانون اور آئین کے مطابق عمل کرنا ہے، الیکشن کمیشن بھی غیر آئینی کام نہیں کر سکتا اور نہ ہی کریگا۔انوار الحق کاکڑ نے کہا ہے کہ جمہوریت میں پْرامن احتجاج ہر ایک کا بنیادی حق ہوتا ہے تاہم تشدد آمیزمظاہروں کی کسی صورت اجازت نہیں دی جا سکتی، ہر سیاسی جماعت کے حق کا تحفظ کریں گے۔ نگراں وزیرِ اعظم نے کہا ہے کہ پہلی بار کسی بھی وزیرِ اعظم کو آئینی طریقے سے اقتدار سے الگ کیا گیا، آئین میں حکومت کی تشکیل اور ہٹائے جانے کا طریقہ درج ہے۔ چیئرمین پی ٹی آئی امریکہ مخالف بیانیے سے خود ہی پچھے ہٹ گئے،عمران خان کو ہٹائے جانے کے بیانیے پر یقین نہیں کیا جا سکتا۔بعض اوقات سیاستدان عوامی حمایت حاصل کرنے کیلئے ایسا مؤقف اپنا لیتے ہیں،اپنی ناکامی کا مبلہ کسی کے اوپر نہیں ڈالا جاسکتا۔۔ انہوں نے کہا کہ یقینی بنائیں گے کہ کوئی بھی بیرونی طاقت پاکستان کے اندرونی معاملات میں مداخلت نہ کرے، پاکستان آزاد اور خود مختار ملک ہے، ہم اپنے قومی مفاد میں فیصلے کرتے ہیں۔ نگراں وزیرِ اعظم انوار الحق کاکڑ نے کہا ہے کہ فوج کے کردار کو حکومت کے تحت دیکھتا ہوں، بدقسمتی سے تین چار دہائیوں سے ہمارے سویلین اداروں کی کارکردگی اچھی نہیں رہی، فوج ایک منظم ادارہ ہے، جس سے مجبوراً مختلف امور میں مدد لینا پڑتی ہے۔انہوں نے کہا کہ ہمیں اپنے سویلین اداروں کی استعداد کار بڑھانے کی ضرورت ہے، ہم جلد انتخابی عمل میں داخل ہونے جا رہے ہیں۔نگراں وزیرِ اعظم انوار الحق کاکڑ نے کہا کہ امریکا اور اتحادی افواج 20 سال افغانستان میں رہے، اتحادی ممالک افغانستان میں 2 کھرب ڈالر خرچ کرنے کے باوجود مرکزی اتھارٹی قائم نہ کر سکے، افغانستان میں اتحادی افواج کی موجودگی میں بھی 15 سال تک پاکستان سرحد پار حملوں کا شکار رہا۔ان کا مزید کہنا ہے کہ سرحد پار حملوں کو روکنے کے لیے کئی سیکیورٹی اقدامات کیے ہیں، افغانستان میں کوئی ایک مرکزی اتھارٹی قائم نہیں بلکہ ایک متحارب گروپ اقتدار میں ہے۔نگراں وزیرِ اعظم نے یہ بھی کہا کہ افغانستان میں استحکام دونوں ممالک کے مفاد میں ہے، کالعدم ٹی ٹی پی کے افغانستان میں ٹھکانے ہیں، افغان عبوری حکومت اپنی سر زمین کسی کے خلاف استعمال نہ ہونے دے.
Load/Hide Comments



