اسلام آباد (آن لائن) ایف بی آر اور سی اے اے پنشن فنڈ کی سرمایہ کاری کے منافع پر ٹیکس کا معاملہ ترجمان سی اے اے نے متنازعہ سول ایوی ایشن آفیسرز ایسوسی ایشن کے خط میں لگائے گئے الزامات بدنیتی پر مبنی اور حقائق سے عاری قرار دے دیئے ہیں۔ترجمان کا کہنا تھا کہ ایف بی آر نے نہ توسی اے اے پنشن فنڈ کو کوئی ٹیکس پنیلٹی/ جرمانہ لگایا ہے اور نہ ہی کوئی ریکوری لیٹر جاری کیا ہے ایمپلائز پنشن فنڈ کوٹرسٹ انکم ٹیکس آرڈیننس 1979 کے تحت ایک متعین بینِیفِٹ پلان کے طور پر قائم ہوا۔ترجمان کا کہنا تھا کہ مروجہ قوانین کے تحت ایف بی آر نے پنشن فنڈ کی سرمایہ کاری کے منافع کو آمدنی/ودہولڈنگ ٹیکس کی کٹوتی سے مستثنیٰ قرار دیا ہے آئینی ترمیم کے نتیجے میں ایف بی آر نے سی اے اے ایمپلائز پنشن فنڈ کی رجسٹریشن منسوخ کی ایف بی آر نے پنشن فنڈ کو سندھ ٹرسٹ ایکٹ 2021 کے تحت دوبارہ رجسٹر کرنے کا مطالبہ کیا یوں ایف بی آر نے فنڈ سے پیدا ہونے والی سرمایہ کاری کیمنافع پر ٹیکس کی کٹوتی شروع کردی سی اے اے پنشن فنڈ نے سپریم کورٹ سے رجوع کیا جس نے فنڈکے حق میں حکم امتناع جاری کیا۔ ترجمان سی اے اے کے مطابق پنشن فنڈ نے متعلقہ بینکوں کو ٹیکس استثنیٰ سرٹیفکیٹ ‘لاء سوٹ ‘میں سپریم کورٹ کا حکم امتناعی فراہم کیا سندھ ٹرسٹ ایکٹ 2021 کے تحت حکومت سندھ کے ساتھ رجسٹریشن کا عمل حتمی مرحلے میں ہے رجسٹریشن کے بعد پنشن فنڈ کے منافع پر ٹیکس کی چھوٹ کے معاملے کو ایف بی آر کے ساتھ اٹھایا جائے گا پنشن فنڈ نے مالی سال23-2022کے دوران اب تک کی سب سے زیادہ آمدنی ریکارڈ کی یہ آمدنی پچھلے سال کی اسی مدت کے دوران حاصل ہونے والے منافع سے دو گنا زیادہ ہے، پنشن فنڈ کے اثاثہ جات کی یہ غیر معمولی کارکردگی ناہلی کے مظحکہ خیز الزامات کو غلط ثابت کرتی ہے۔
Load/Hide Comments



