اسلام آباد(آن لائن) اسلام آباد ہائی کورٹ نے چیئرمین پی ٹی آئی کی اہلیہ بشریٰ بی بی کو ایف آئی اے کی جانب سے طلب کرنے کے حکم نامے کو تاحکم ثانی معطل کر دیا ہے جمعہ کو جسٹس بابر ستار نے سماعت کے بعد یہ حکم جاری کیا ہے۔ سردار لطیف کھوسہ عدالت میں پیش ہوئے اور انہوں نے عدالت کو بتایا کہ بشریٰ بی بی کو تھانہ کوہسار تھانے والوں نے طلب کیا تھا اور کہا تھا کہ آپ سے ایف آئی اے سائبر کرائم کے تحت آپ کی آواز کا جائزہ لینا چاہتی ہے اس حوالے سے انہوں نے توشہ خانہ کی گھڑی کاتذکرہ کیا ہے۔ کھوسہ نے عدالت سے کہاکہ اب یہ حالات آ گئے ہیں کہ بشریٰ بی بی کو جعلی مقدمات میں خاتون ہونے کے باوجود اس طرح سے طلب کیا جا رہا ہے۔ جعل سازی سے ٹیپس بنائی گئی ہیں انہوں نے آئین کے آرٹیکل 9، 11، 14، 25 کا حوالہ دیا اور کہا کہ بشریٰ بی بی کو بنیادی انسانی حقوق حاصل ہیں ان حقوق کی گارنٹی آئین و قانون دیتے ہیں۔ اس لئے اس معاملے کو روکا جائے اور ایف آئی اے اور تھانہ کوہسار پولیس کو احکامات جاری کئے جائیں جس پر جسٹس بابر ستار نے ایف آئی اے اور تھانے کی جانب سے طلبی کے حکم کو معطل کردیا ہے اور کہا ہے کہ جب تک اس کیس کا حتمی فیصلہ نہیں ہو جاتا اس وقت تک بشریٰ بی بی کو اس طرح سے طلب نہیں کیا جائے گا۔ واضح رہے کہ بشریٰ بی بی نے لطیف کھوسہ کے ذریعے درخواست دائر کی تھی اور ایف آئی اے اور تھانہ کوہسار کی طلبی نوٹس بارے آگاہ کیا تھا اور اس بارے حکم جاری کرنے کی استدعا کی تھی۔
Load/Hide Comments



