لاہور(آن لائن) سابق وزیر داخلہ رانا ثناء اللہ نے کہا ہے سپریم کورٹ کے متنازعہ بنچ نے نیب ترامیم پر متنازعہ فیصلہ دیا، پی ٹی آئی، اور چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان کو اب نیب کا ظالمانہ اور بے رحمانہ قانون مبارک ہو،،13کے قریب کیسز پی ٹی آئی چیئرمین پر بنتے ہیں وہ کیسز بھگتیں، پی ٹی آئی اب یہ نہیں کہ سکے گی کہ ہمیں سیاسی انتقام کا نشانہ بنایا جا رہاہے۔ملک کی معاشی تباہی کا عمل 28جولائی2017میں شروع ہو جو تاحال نہیں رک سکا، ہر شہری نواز شریف کی وطن واپسی کو نجات دہندہ کے طور پر دیکھ رہا ہے، وطن واپسی اٹل ہے، نواز شریف آزاد شہری کی حثیت سے وطن واپس لوٹیں گے اور حفاظتی ضمانت حاصل کریں گے۔ لاہور میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے سابق وزیر داخلہ نے کہا کہ ؎ نواز شریف کی وطن واپسی کے استقبال کی تیاریاں شروع کردی ہیں، ملک کی معاشی تباہی کا عمل 28جولائی2017میں شروع ہو جو تاحال نہیں رک سکا،ایک منتخب وزیراعظم کو بیٹے کی کمپنی سے تنخواہ نہ لینے پر سازش کے ذریعے عہدے سے ہٹا دیا گیا،اس وقت پاکستان 20,20گھنٹے کی لوڈشیڈنگ پر قابو پاچکا تھا،2013میں پاکستانی عوام نے مسلم لیگ ن پر اعتماد کیا،ہر شہری نواز شریف کی وطن واپسی کو نجات دہندہ کے طور پر دیکھ رہا ہے،نواز شریف کا استقبال 10لاکھ کارکن کریں گے،ملک ڈیفالٹ سے بچ گیا لیکن معاشی استحکام تا حا ل نہیں آیا۔ انہوں نے کہا کہ بابا رحمتے کی سربراہی میں ملک کو معاشی طور پر عدم استحکام کا شکار کیاگیا، مسلم لیگ ن لوڈشیڈنگ اور دہشتگردی کا خاتمہ کیا، خود کو صادق و امین دینے والے ملک کو اخلاقی طور پر تباہ کیا،جب ہماری حکومت حکومت کو ہٹایا گیا،ڈالر65اور پٹرول 100روپے لیٹر تھا،منتخب حکومت کو ایک سازش سے عدالتی فیصلے کے ذریعے برسراقتدار سے ہٹایا گیا۔ نیب ترامیم سے متعلق سپر یم کورٹ کے فیصلے پر ردعمل دیتے ہوئے رانا ثنا ء اللہ کا کہنا تھا کہ سپریم کورٹ کے متنازعہ بنچ نے نیب ترامیم پر متنازعہ فیصلہ دیا، میں نے ابھی سپر کورٹ کا فیصلہ نہیں پڑھا،سبکدوش ہونیوالے چیف جسٹس نے اپنے ادارے کو سب سے زیادہ نقصان پہنچایا،میڈیا سے پتہ چلا کہ ایک ترامیم کے علاوہ باقی ترامیم کو کالعدم قراردیا گیا،ہم نے اپنے کیسز میں انکوائریز بھی فیس کر لیں، اب نیب کا پرانا قانون پی ٹی آئی چیئرمین اور پی ٹی آئی کو مبارک ہو،13کے قریب کیسز پی ٹی آئی چیئرمین پر بنتے ہیں وہ کیسز بھگتیں، میر ی رائے تھی نیب کا بے رحم قانون ختم کیا جائے کیونکہ ہم تو بھگت چکے ہیں کم ازکم پی ٹی آئی اب یہ نہیں کہ سکے گی کہ ہمیں سیاسی انتقام کا نشانہ بنایا جا رہا ہے،اب انہیں ضمانت نہیں ملے گی،90،90روز کا ریمانڈ کاٹنا پڑیگا،میاں نواز شریف ایک آزاد شہری کی طرف وطن واپس لوٹیں گے اور حفاظتی ضمانت حاصل کریں گے۔ نواز شریف کی وطن واپسی میں حائل رکاوٹوں کو دور کرنے کیلئے لیگل ٹیم کام کر رہی ہے، یہ تھوک کے حساب سے ضمانتوں کے عادی تھے، نیب کے پاس تو اب ضمانت دینے کا بھی اختیار نہیں ہے۔
Load/Hide Comments



