اسلام آباد (آن لائن) نگران وزیراعظم انوارالحق کاکڑ نے کہا ہماراقتدار کو طول دینے کا کوئی پروگرام نہیں ہے، ملکی مفاد میں معاشی اور سیاسی فیصلے کئے جارہے ہیں۔ نوازشریف کی آمد بارے نہیں پتا کب ملک آئیں گے، نوازشریف تین مرتبہ وزیراعظم رہ چکے ہیں، مروجہ قوانین کے تحت اگر انہیں کوئی پرویلج حاصل ہے توملیں گی، نوازشریف کا معاملہ عدالتوں کے سپرد ہے۔اللہ قائداعظم کے درجات بلند کرے، ہمارا فوکس معیشت کی بحالی ہے، ایس آئی ایف سی میں زراعت، مائنز اینڈ منرل، آئی ٹی پر فوکس ہے، جیسے ہی منتخب حکومت آئے گی ان کا ان ایکسائز پر وقت ضائع نہیں ہوگا۔نگران وزیراعظم نے کہا معیشت کی بہتری کے لئے اقدامات جاری ہیں، وفاق اور صوبائی نگران حکومتوں میں مختلف امور پر یکساں موقف ہے، نومئی کے جلاؤ گھیراؤ کوعالمی میڈیا نے بھی رپورٹ کیا، نومئی کے واقعات میں ملوث افراد سے قانون کے مطابق نمٹا جارہا ہے، آئین و قانون کے مطابق تمام شہری برابر ہیں، کسی بھی سیاسی جماعت پر کوئی قدغن نہیں۔نجی ٹی وی پروگرام میں خصوصی انٹرویو دیتے ہوئے وزیراعظم نے کہاکہانوارالحق کاکڑ نے کہا پی ٹی آئی پر بحیثیت جماعت کوئی قدغن نہیں لگی، نومئی کو جلاؤ گھیراؤ سب کے سامنے ہوا، قوانین کے تحت ہی ان کے فیصلے ہوں گے، پارلیمنٹ نے قانون پاس کیا ہے، قانون کے تحت الیکشن کمیشن کو الیکشن کی تاریخ دینے کا اختیار دیا گیا ہے۔انوارالحق کاکڑ نے کہا نوازشریف کی آمد بارے نہیں پتا کب ملک آئیں گے، نوازشریف تین مرتبہ وزیراعظم رہ چکے ہیں، مروجہ قوانین کے تحت اگر انہیں کوئی پرویلج حاصل ہے توملیں گی، نوازشریف کا معاملہ عدالتوں کے سپرد ہے، قوانین کے تحت ہی رویہ اختیار کیا جائے گا۔نگران وزیراعظم نے کہا بہت سارے لوگوں کا یہ خیال ہے کہ الیکشن کے بعد بھی استحکام نہیں آئے گا، تو کیا ہم الیکشن کی طرف نہ جائیں؟ سیاسی استحکام کے ساتھ یکساں ہوکرچلنا پڑے گا، پارلیمنٹ نے قانون پاس کیا ہے، قانون کے تحت الیکشن کمیشن کو الیکشن کی تاریخ دینے کا اختیار دیا گیا ہے۔انہوں نے کہاکہ دہشت گردی کسی صورت قبول نہیں، پاکستان کے افغانستان کے ساتھ کثیرالجہتی تعلقات ہیں، ایس آئی ایف سی کے تحت معاشی بحالی کے اقدامات جاری ہیں، افغانستان کے ساتھ سکیورٹی چیلنجز کا سامنا ہے، افغانستان کو سمجھ آرہی ہے کہ ہمسایوں کو تبدیل نہیں کیا جاسکتا.
Load/Hide Comments



