الیکشن کمیشن اپنے فیصلے بغیر کسی دباو کے میرٹ اور آئین اور قانون کی بنیاد پر کرتا رہے گا، سکندر سلطان راجہ

الیکشن کمیشن اپنے فیصلے بغیر کسی دباو کے میرٹ اور آئین اور قانون کی بنیاد پر کرتا رہے گا، سکندر سلطان راجہ
سلام آباد(آن لائن) چیف الیکشن کمشنر سکندر سلطان راجہ نے کہاہے کہ الیکشن کمیشن اپنے فیصلے بغیر کسی دبا? کے میرٹ اور آئین اور قانون کی بنیاد پر کرتا رہے گا، الیکشن کمیشن انتخابات کیلئے مکمل طور پر تیار ہے تاہم انتخابات کا اعلان کرنا حکومت کی ذمہ داری ہے۔بدھ کے روز الیکشن کمیشن میں پنجاب اور خیبر پختونخوا کے ممبران کی حلف برداری کی تقریب کے موقع پر چیف الیکشن کمشنر سکندر سلطان راجہ نے صحافیوں سے غیر رسمی گفتگو میں کہا کہ الیکشن کمیشن اپنے فیصلے بلا خوف کرتا ہے اور کرتا رہے گا اگر ان فیصلوں سے کوئی ناراض یا راضی ہوتا ہے تو یہ انکا مسئلہ ہے انہوں نے کہاکہ الیکشن کمیشن آئین اور قانون کے مطابق فیصلے کرتا ہے اور کسی کے دبا? کو قبول نہیں کرتا ہے انہون نے کہا کہ سب ہمارے دوست ہیں الیکشن کمیشن آئین اور قانون کے مطابق فیصلے کرتا ہے الیکشن کمیشن انتخابات کے لئے ہمیشہ تیار ہے تاہم نئے انتخابات کا فیصلہ حکومت نے کرنا ہے الیکشن کمیشن کا کام صاف شفاف اور غیر جانبدار انتخابات کا انعقاد ہے انہوں نے کہاکہ حلقہ بندیوں پر تیزی سے کام جاری ہے مردم شماری کے حوالے سے الیکشن کمیشن کا موقف واضح تھا مردم شماری سرکاری طور پر شائع ہونے سے قبل حلقہ بندیاں نہیں کی جاسکتیں مئی 2021 میں 2017 کی مردم شماری کے نتائج شائع ہوئے اورنئی حلقہ بندیوں پر کام مردم شماری کے نتائج شائع ہونے کے بعد شروع کیا انہوں نے کہاکہ2018 کے انتخابات اور حلقہ بندیوں کے حوالے سے خصوصی آئینی ترمیم لائی گئی تھی اب حکومت ڈیجیٹل مردم شماری کرانا چاہتی ہے اورڈیجیٹل مردم شماری کے نتائج دسمبر 2022 تک ملے تو بروقت حلقہ بندیاں ہوسکتی ہیں انہوں نے کہاکہ اگر نتائج تاخیر کا شکار ہوئے تو 2017 کی مردم شماری کی بنیاد پر حلقہ بندیوں پر انتخاب ہوگا انہوں نے کہاکہ اراکین قومی اسمبلی کے استعفوں کا کیس سابق ڈپٹی سپیکر نے الیکشن کمیشن کو نہیں بھجوایاانہوں نے کہاکہ الیکشن کمیشن کی سماعت میں کیا کچھ ہوتا ہے صحافی بہترین جج ہیں۔