اسلام آباد(آن لائن) سینٹ اجلاس کے دوران اپوزیشن اراکین نے پاکستانی وفد کے دورہ اسرائیل پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے معاملے کی اعلیٰ سطح پر تحقیقات کرنے کا مطالبہ کیا ہے،اراکین نے وفد میں شامل پاکستانیوں کے پاسپورٹ کینسل کرنے اور این جی او پر پابندی لگانے کا بھی مطالبہ کیا ہے۔سوموار کے روز سینیٹ اجلاس کے دوران جماعت اسلامی کے سینیٹر مشتاق احمد خا ن نے نکتہ اعتراض پر بات کرتے ہوئے کہاکہ پاکستانیوں پر مشتمل ایک وفد اسرائیل گیا تھا اور اسرائیل کے صدر نے اس پر خوشی کا اظہار کیا ہے کہ وفد میں پاکستانی بھی شامل تھے انہوں نے کہاکہ اس حوالے سے حکومت اپنی پوزیشن واضح کرے اور تمام افراد کی شناخت قوم کے سامنے لائی جائے انہوں نے کہاکہ احمد قریشی نامی شخص جو کہ پاکستانی ٹی وی پر ملازمت کرتا ہے اور افواج پاکستان کے ساتھ پر بھی مختلف پراجیکٹ پر کام کرتا ہے ان کا اسرائیل کے دورے پر جانا بہت سے سوالات اٹھاتا ہے انہوں نے کہاکہ وہ کس اتھارٹی کے ساتھ اسرائیل گیا ہے اور کن دستاویزات کے ساتھ وہاں گیا ہے انہوں نے کہاکہ جس این جی او نے اسرائیل کا دورہ کرایا ہے اس پر پابندی لگائی جائے اور جو پاکستانی شہری وہاں گئے ہیں ان کی شہریت کینسل کی جائے اور احمد قریشی کس اتھارٹی کے ساتھ وہاں گئے ہیں اس کی تفصیل بتائی جائے انہوں نے کہاکہ قوم اس حوالے سے شدید تشویش میں مبتلا ہے اس موقع پر قائد ایوان سینیٹر اعظم نذیر تارڑ نے کہاکہ یہ ممکن نہیں ہے کہ کوئی بھی سرکاری سطح سے اسرائیل نہیں گیا ہے اور جو افراد گئے ہیں انہوں نے کہاکہ اس ایوان کو بتانا چاہتا ہوں کہ فلسطین کے مظلوم عوام اور اسرائیل کے بارے میں پالیسی میں کوئی تبدیلی نہیں ہوئی ہے اور اس دورے میں جو پاکستانی شہری شامل ہیں اس حوالے سے تمام تر تفصیلات ایوان کے سامنے رکھی جائے گی انہوں نے کہاکہ اس حوالے سے وزارت خارجہ سے تفصیلی بریفنگ لینے کے بعد ایوان کو اگاہ کیا جائے گا محض اخباری خبر کی بنیاد پر الزامات عائد نہ کئے جائیں اس موقع پر قائد حزب اختلاف ڈاکٹر شہزاد وسیم نے کہاکہ یہ ایک سنگین مسئلہ ہے اسرائیل کے ساتھ تعلقات کے حوالے سے پاکستان کی خارجہ پالیسی واضح ہے اور فلسطین کے حوالے سے قائد اعظم اور علامہ اقبال نے قیام پاکستان سے قبل ہی بتا دیا تھا انہوں نے کہاکہ کہا جارہا ہے کہ یہ محض اخباری خبر ہے تاہم گذشتہ کچھ دنوں سے یہ خبریں گردش کر رہی ہیں اور اس کی تصدیق اسرائیلی وزیر اعظم نے اپنے بیان میں بھی کی ہے انہوں نے کہا حکومت اس کو غیر سرکاری دورہ کہتی ہے جب کہ اس وفد میں دو پاکستانی پاسپورٹ ہولڈر جس میں ایک پاکستان ٹیلی ویڑن کے ساتھ وابستہ شخص بھی ہے انہوں نے کہاکہ پاکستان کے پاسپورٹ پر واضح طور پر لکھا ہوا ہے کہ اس پر اسرائیل کا سفر نہیں کیا جاسکتا ہے بتایا جائے کہ کون اس پاسپورٹ پر اسرائیل گیا ہے اور وہاں سے واپس بھی آیا ہے –
Load/Hide Comments



