دھرنا دے کربیٹھ جاتا تو خون خرابہ ہونا تھا، نئے انتخابات کا اعلان نہیں ہوا تو پوری تیاری کے ساتھ دوبارہ نکلیں گے
چیف جسٹس پاکستان کو خط لکھا ہے جس میں پوچھا ہے کہ کیا ہمیں احتجاج کرنے کا حق ہے کہ نہیں؟
اسمبلیوں میں اس وقت ہونے والا ڈرامہ غیر قانونی ہے، عدلیہ سے سوال کرتا ہوں کہ کیا ہم بھیڑ بکریوں کی طرح انکے اقدامات کو مان لیں؟ اس طرح ملک میں انتشار پھیلے گا- رانا ثناء اللہ، شہباز شریف، حمزہ شریف، یزید کے ماننے والے لوگ ہیں، پولیس کی جانب سے دہشت گردی دیکھی، ہمارے لوگ انتہائی غصے میں تھے جنہوں نے یہ تماشے دیکھے،اسلام آباد بیٹھ جاتا تو پولیس کیخلاف نفرتیں بڑھ چکی تھیں اس میں مزید اضافہ ہوتا – آئی ایم ایف کے دباؤ میں آ کر پیٹرول اور ڈیزل کی قیمت میں 30 روپے کا اضافہ کر دیا گیا، یہ حکومت تو بیرونی دبا ؤ برداشت ہی نہیں کر سکتی، اب مزید مہنگائی بڑھے گی اور ملک میں بدامنی پھیلے گی اور قوم میں ملک سے بددلی پھیلے گی یہ ہمیں بھی سری لنکا جیسے صورتحال کی طرف دھکیل رہے ہیں – میری امپورٹڈ حکومت سے جنگ یہ ہے کہ میں غلامی قبول نہیں کر سکتا،پشاور (آن لائن)چیئرمین پاکستان تحریک انصاف عمران خان نے اسٹیبلشمنٹ سے کسی ڈیل کے تحت آزادی مارچ ختم کرنے کی خبروں کی ترید کرتے ہوئے کہا ہے کہ میری کسی سے ڈیل ہوئی اور نہ کمزوری تھی اگر میں دھرنا دے کربیٹھ جاتا تو خون خرابہ ہونا تھا، نئے انتخابات کا اعلان نہیں ہوا تو پوری تیاری کے ساتھ دوبارہ نکلیں گے۔جمعہ کو پشاور میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا عمران خان نے کہا، یہ کہا جارہا تھاکہ ہم انتشار کرنے کے لیے جا رہے ہیں، کیا کوئی اپنے بچوں و عورتوں کو لے انتشار کرنے جاتا ہے۔انہوں کا کہنا تھا کہ اگر مجھے اپنی قوم کا خیال نہ ہوتا اور میں وہاں بیٹھ جاتا تو بہت خون خرابہ ہونا تھا، نفرتیں بڑھنی تھیں لیکن پولیس بھی ہماری ہے اس لیے ہم نے اپنے ملک کی خاطر فیصلہ کیا۔سابق وزیراعظم کا کہنا تھا کہ کوئی نہ سمجھے کہ میری اسٹیبلشمنٹ سے کوئی ڈیل ہوئی ہے، حکومت کو 6 روز دے رہا ہوں اگر انتخابات کا اعلان نہ ہوا تو بھرپور تیاری کے ساتھ جائیں گے کیونکہ اس بات ہماری تیاری نہیں تھی۔ انہوں نے کہا کہ مردان میں سب سے پہلے شہید کارکن کے گھر گیا، دوسرے کارکن فیصل عباس لاہور میں شہید ہوئے ہیں ان کے گھر پاکستان تحریک انصاف کے دیگر رہنما گئے ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ ان دونوں کے لیے ایک ایک کروڑ روپے پارٹی کی طرف سے اکٹھا کریں گے۔انہوں نے کہا کہ یہ وہ لوگ ہیں جو ایک حقیقی آزادی کے جذبے سے نکلے تھے، انہوں نے فیصلہ کیا کہ بیرونی ملک کی سازش سے کرپٹ ترین مافیا کی حکومت کو مسلط کیا۔ اس لئے ہم ان کے خاندان کو جتنا خراج تحسین پیش کریں اتنا کم ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ پْرامن احتجاج میں جو ہمارے ساتھ ہوا اور پْرامن احتجاج اس لئے تھا کہ پہلے سازش بنتی ہے، اس میں ہر قسم کا ایکٹر شامل ہو کر 22 کروڑ لوگوں کی منتخب حکومت کو گراتا ہے۔سابق وزیراعظم نے کہا کہ ملک کی سب سے بڑی توہین یہ ہے کہ 30 سال جو لوگ اس ملک کو پیسے چوری کرکے اور پیسے باہر بھیج کر کھا رہے تھے، ہر قسم کے جرم کررہے تھے، ان لوگوں کو ملک پر مسلط کیا گیا۔ان کا کہنا تھا کہ پہلے آپ سازش کرتے ہیں اس کے بعد چوروں کو بٹھا دیتے ہیں۔ مغربی ممالک میں کوئی سوچ نہیں سکتا کہ ضمانت کے اوپر انسان کو کوئی عہدہ دیا جائے۔ جبکہ یہاں پر اس کو وزیراعظم اور وزیراعلیٰ بنادیتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ 60 فیصد کابینہ ضمانتوں پر ہو۔ اگر اس کے خلاف کوئی قوم پْرامن احتجاج نہیں کرسکتی تو پھر اس قوم کو زندہ ہی نہیں رہنا چاہیے۔
Load/Hide Comments



