ڈیووس (آن لائن) وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے کہا ہے تھر کول پراجیکٹ کو ترقی دینے کے لیے حکومت کو مسلسل کوششیں کرناہونگی یہ سندھ بلکہ پورے ملک کے لیے توانائی کی پیداوار کا ایک اہم ذریعہ ہوگا،کہ 6 بلین ڈالر کی تخمینہ لاگت کے ساتھ صوبے میں سرمایہ کاری کے ممکنہ منصوبوں میں پانی اور ماحولیات، تعلیم و ٹیکنالوجی، صنعتی زونز، ماحولیاتی سیاحت، شہری ماحولیاتی نظام، خوراک کی حفاظت اور مختلف شعبوں میں سرمایہ کاری شامل ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ جامع قانونی اور ادارہ جاتی میکنزم میں جڑے ایک بہتر ماحول کے ذریعے سندھ میں پیش کیے جانے والے مواقع کی کثیر تعداد میں سرمایہ کاری منصفانہ طرز عمل، شفافیت اور پرکشش معاشی منافع کو یقینی بناتی ہے۔ یہ بات انہوں نے سوئٹزرلینڈ کے شہر ڈیووس میں پاتھ فائنڈر اور مارٹن ڈاؤ گروپ کی جانب سے ورلڈ اکنامک فورم کے موقع پر منعقدہ سندھ انویسٹمنٹ کانفرنس میں بطور مہمان خصوصی خطاب کرتے ہوئے کہی۔ اس موقع پر وزیراعلیٰ سندھ کے معاون خصوصی برائے سرمایہ کاری سید قاسم نوید اور ڈائریکٹر جنرل پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ یونٹ اسد ضامن بھی کانفرنس میں موجود تھے۔ ڈیووس کے شیزلپ (Schatzalp )کے خوبصورت مقام پر منعقد ہونے والی سرمایہ کاری کانفرنس نے بڑی تعداد میں مہمانوں، ممکنہ سرمایہ کاروں اور سینئر بینکرز کو متوجہ کیا۔ وزیر اعلیٰ سندھ نے اس موقع پر گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ سندھ نے گزشتہ چند سالوں میں صحت
اور تعلیم کے ساتھ ساتھ انفراسٹرکچر اور مواصلات جیسے سماجی شعبوں میں سماجی اقتصادی ترقی کے حصول کے لیے کی گئی وسیع پیش رفت کو اجاگر کیا ہے۔ سید مراد علی شاہ نے تھر کول پراجیکٹ کو ترقی دینے کے لیے حکومت کی مسلسل کوششوں پر زور دیا جو نہ صرف سندھ بلکہ پورے ملک کے لیے توانائی کی پیداوار کا ایک اہم ذریعہ ہوگا۔ انہوں نے مزید کہا کہ مربوط کوششوں کے ذریعے حکومت سندھ کا Easy of doing business ایسا پروٹوکول ہے جو ملکی اور غیرملکی سرمایہ کاری کو سہولیات فراہم کرتا ہے۔ وزیراعلیٰ سندھ نے کہا کہ ہم نے تھر کول پروجیکٹ کی تکمیل کیلئے بہت محنت کی ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ تھر کول سے پیدا ہونے والی توانائی نہ صرف سندھ بلکہ پورے ملک کی ترقی کی ضامن ہے۔ وزیراعلیٰ سندھ نے فورم کو سندھ کے پبلک پرائیویٹ پارٹنیٹ شپ نظام کی کامیابیوں سے آگاہ کیا جسے اکیلے سرمایہ کاروں نے نہیں بلکہ تمام اسٹیک ہولڈرز جیسے بینکوں، کثیر جہتی اداروں کے ساتھ ساتھ معروف بین الاقوامی پبلیکیشنز جیسے اکانومسٹ میگزین نے بھی سراہا ہے۔ سید مراد علی شاہ نے تقریب کے شرکاء سے کہا کہ وہ سندھ میں موجود سرمایہ کاری کے وسیع مواقع موجود ہیں۔ جس کی جڑیں جامع قانونی اور ادارہ جاتی میکنزم پر مبنی ہوں تاکہ منصفانہ طرز عمل، شفافیت اور پرکشش معاشی منافع کو یقینی بنایا جا سکے۔ وزیر اعلیٰ سندھ کے مطابق ممکنہ منصوبوں میں پانی اور ماحولیات، تعلیم و ٹیکنالوجی، صنعتی زونز، ماحولیاتی سیاحت، شہری ماحولیاتی نظام اور خوراک کی حفاظت جیسے شعبوں میں سرمایہ کاری کی جاسکتی ہے، جن کی لاگت کا تخمینہ تقریباً 6 بلین ڈالرز تک ہے۔ تقریب کے شرکاء سے گفتگو کے دوران، غیر ملکی اور ملکی سرمایہ کاری کے شعبوں سے تعلق رکھنے والے متعدد افراد نے حکومت سندھ کے پیش کردہ وڑن اور منصوبوں کو سراہا اور سرمایہ کاری کے مواقع سے فائدہ اٹھانے میں دلچسپی ظاہر کی۔ تقریب کے آغاز میں اکرام سہگل نے وزیر اعلیٰ سندھ کی قیادت میں سندھ کے وفد کا تعارف کرایا۔بعد ازاں، قاسم نوید قمر نے سامعین کو سندھ حکومت کے وڑن اور محکمہ سرمایہ کاری کے تحت ایک فعال نقطہ نظر کے ذریعے صوبے میں سرمایہ کاری کے مواقع بڑھانے کی کوششوں سے آگاہ کیا۔ انہوں نے تعلیم، سیاحت، زراعت، اور صنعتی زون کی ترقی جیسے متنوع شعبوں میں ممکنہ سرمایہ کاروں کے لیے دستیاب متعدد مواقع پر روشنی ڈالی۔ قبل ازیں، انویسٹمنٹ ڈپارٹمنٹ کی جانب سے ایک دستاویزی فلم جس میں سندھ کی ثقافت کے ساتھ ساتھ صوبے کی سماجی معاشی ترقی کے لیے حکومت کی کوششوں کو دکھایا گیا۔ دستاویزی فلم کے بعد سندھ حکومت کے آنے والے منصوبوں کے بارے میں تفصیلی پریزنٹیشن بھی دی گئی-
Load/Hide Comments



