اسلام آباد (آن لائن)وزیر داخلہ رانا ثناء اللہ نے کہا ہے کہ عمران خان نے لانگ مارچ کے نام پر فتنہ مارچ شروع کرنے کا دعویٰ کیا تھا، پہلے 20 لاکھ لوگوں کے عوامی سیلاب کے اسلام آباد کی طرف بڑھنے کا اعلان کیا، پھر 30 لاکھ تک اعلان ہوا، پنجاب میں تین مقامات پر راوی برج کے پاس بتی چوک پر دو سو سے اڑھائی سو افراد پر مشتمل پی ٹی آئی کا قافلہ موجود تھا،وہاں پر لیڈران نے خودساختہ خبریں چلوا دیں کہ انہیں گرفتار کرلیا گیا ہے،پنجاب مکمل طور پر پرامن اور پرسکون ہے، فتنہ و فساد مارچ کا حصہ نہ بننے پر پنجاب کے عوام کا شکریہ ادا کرتے ہیں۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے گزشتہ روز پریس انفارمیشن ڈیپارٹمنٹ میں اور وفاقی وزیر اطلاعات مریم اورنگزیب کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے کیا،رانا ثناء اللہ کا کہنا تھا کہ سابق وزیر صحت پنجاب ڈاکٹر یاسمین راشد سمیت پی ٹی آئی کی دیگر خواتین کو کسی نے گرفتار نہیں کیا ہے پاکستان تحریک انصاف کی دونوں معزز خواتین جو وہاں سے روانہ ہوئیں، انہیں کسی نے گرفتار نہیں کیا۔ پنجاب کے مختلف اضلاع میں چالیس سے پچاس لوگ ایک آدھ بار سامنے آئے، اس کے بعد واپس چلے گئے، پنجاب کے عوام کا اس فتنہ فساد مارچ کا حصہ نہ بننے پر شکریہ ادا کرتا ہوں، چند سو افراد اس کا حصہ بنے ہیں ان کے لئے دعا گو ہوں کہ اللہ انہیں ہدایت دے، یہ عمرانی فتنے میں گمراہ ہو کر ملک و قوم کے نقصان میں اپنا حصہ نہ ڈالیں، یہ شخص جو قوم اور نوجوان نسل کو گمراہ اور تقسیم کرنا چاہتا ہے، اس کے ایجنڈے کا ہر گز حصہ نہ بنیں،بلوچستان کے عوام مبارکباد کے مستحق ہیں، بلوچستان میں کسی کو معلوم ہی نہیں کہ کوئی فتنہ فساد مارچ ہو رہا ہے۔سندھ کی صورتحال بھی پرامن ہے۔ سندھ کے باسیوں نے اس فتنہ فساد مارچ کا حصہ بننے سے انکار کیا ہے۔اس وقت اگر کوئی سرگرمی ہے تو وہ صرف کے پی کے میں ہے، خیبر پختونخوا میں دو جگہوں پر علی امین گنڈا پور اور امجد نیازی ایم این اے آگے بڑھ رہے ہیں، ان کے ساتھ بھی تین سے چار ہزار کے قریب لوگ ہیں۔ان کے پاس ایریگیشن ڈیپارٹمنٹ کی مشینری ہے، کرینز ہیں، ٹئیر گنز ہیں، اسلحہ بھی ہے۔ یہ پوری سرکاری سرپرستی میں پروٹوکول کے ساتھ وفاق پر چڑھائی کرنے کے ارادے سے رواں دواں ہیں،پورے کے پی کے سے پشاور سے ہر جگہ سے لوگوں کو صوابی پہنچنے کا کہا۔ وہاں لوگ دھوپ اور گرمی میں دھکے کھاتے ہوئے پہنچے، علی امین گنڈاپور سرکاری سرپرستی میں وفاق پر چڑھائی کرنے آرہے ہیں، صوبائی وسائل کے ساتھ وفاق پر چڑھائی کے نتائج بھگتنا ہوں گے۔ رانا ثناء اللہ کا مزید کہنا تھا کہ خود انقلابی لیڈر ہیلی کاپٹر پر وہاں پہنچے، جب انہوں نے وہاں پر خطاب کیا تو اس وقت دس سے گیارہ ہزار لوگ موجود تھے۔جو لوگ وہاں سے چلے ہیں ان کے ساتھ ان کی تعداد پانچ سے چھ ہزار ہے،یہ ہے وہ عوامی سیلاب جس کو وہ لے کر اسلام آباد کی طرف بڑھ رہے ہیں، انہیں کوئی شرم اور احساس شرمندگی ہے تو انہیں وہیں پر اسے کال آف کر دینا چاہئے تھا،بیس لاکھ کا ٹارگٹ تھا اس کا 50 فیصد یا 25 فیصد ہی پورا کر لیتے، عمران خان کی کے پی کے میں حکومت ہے، وہاں ان کے پاس وسائل بھی ہیں، وہاں سے پانچ سے سات ہزار آدمی لے کر چلے اور کہتے ہیں کہ تاریخ کا سب سے بڑا جلوس لے کر اسلام آباد کی طرف بڑھوں گا۔ہمیں بھی افسوس ہو رہا ہے کہ ہم نے ان کے جھوٹ پر اتنے بڑے انتظامات کئے، اگر یہی کچھ ہونا تھا تو ہمیں نتظامات کرنے کی ضرورت نہیں تھی،ہم نے میٹرو بند کی، بچوں کے امتحانات ملتوی کئے، لوگوں کو سفر میں مشکلات پیش آئیں،میں اپنی اور حکومت کی طرف سے ان لوگوں سے معذرت خواہوں جنہیں اس صورتحال میں دقت برداشت کرنا پڑی۔پاکستان کے عوام کو مبارکباد پیش کرتا ہوں اور ان کا شکریہ ادا کرتا ہوں کہ انہوں نے گھروں میں رہ کر اس مارچ کو ناکام بنایا، لوگوں نے اپنے گھروں میں رہنے کو ترجیح دی لیکن اس فتنہ فساد مارچ کا حصہ نہیں بنے، عوام نے اس شر انگیزی، فتنے کو رد کیا اور اس کا حصہ بننے سے انکار کیا۔میڈیا کا بھی موجودہ صورتحال میں مثبت کردار رہا، ان کا شکریہ ادا کرتے ہیں،۔۔
Load/Hide Comments



