اسلام آباد( ویب ڈیسک ) اسلام آباد ہائیکورٹ جسٹس عامر فاروق کی عدالت نے الیکشن کمیشن کے نوٹس کیخلاف وزیراعظم عمران خان اور اسد عمر کی درخواست پر سماعت کے دوران الیکشن کمیشن کو وزیراعظم کیخلاف حتمی کارروائی سے روکتے ہوئے کہا کہ الیکشن کمیشن آئندہ سماعت تک نااہلی اور جرمانہ نہیں کرے گا۔ اٹارنی جنرل پاکستان خالد جاوید خان بھی عدالت کے سامنے پیش ہوئے انھوں نے اپنے دلائل میں عدالت کو بتایا کہ الیکشن کمیشن اس نتیجے پر کیسے پہنچا کہ آرڈیننس کا اطلاق وزیراعظم پر نہیں ہوتا،الیکشن کمیشن وزیر اعظم کو جرمانے کررہا ہے اگلا مرحلہ نااہلی کا ہے اس موقع پر عدالت نے استفسار کیا کہ کیا وزیراعظم کی نااہلی کے لیے نوٹس جاری کردیا ہے جس پر اٹارنی جنرل نے عدالت کو بتایا کہ ابھی تک ایسا کوئی نوٹس جاری نہیں کیا گیا،روز دو تین نوٹس وزیراعظم کو ملتے ہیں مینگورہ میں صبح نوٹس کرتے ہیں اور کہتے ہیں شام کو پیش ہوجائیں عدالت نے استفسار کیا کہ کیا الیکشن کمیشن آرڈیننس کو ختم کر سکتا ہے؟
جس پر اٹارنی جنرل نے عدالت کو بتایا کہ الیکشن کمیشن کے پاس آرڈینس کو کالعدم قرار دینے کا اختیار نہیں جس پر عدالت نے پوچھا کہ اگر الیکشن کمیشن نے کوڈ آف کنڈکٹ بنایا پو تو کیا آرڈیننس کے ذریعے اس کو ختم کیا جا سکتا ہے؟ اس پر اٹارنی جنرل نے عدالت کو بتایا کہ وزیراعظم کا معلوم ہوتا ہے کہ وہ سوات جارہے ہیں تو الیکشن کمیشن فوری کہتا وہاں نہ جاو،الیکشن کمیشن ڈیڈی کی طرح ایکٹ کررہا ہے ،خان صاحب نہ تو سیاسی جماعت ہیں نہ امیدوار مگر انہیں صبح شام نوٹس مل رہے ہیں، ہیڈ آف گورنمنٹ کو نہیں روکا جا سکتا ،ہیڈ آف اسٹیٹ کو روکا جا سکتا، اٹارنی جنرل نے عدالت سے استدعا کی کہ الیکشن کمیشن کو مزید کارروائی سے عارضی طور پر روکا جائے،وزیر اعظم سیاسی سرگرمیوں میں غیر جانبدار نہیں رہ سکتا،پارلیمانی نظام میں سٹار پرفارمر کو کیسے الگ کیا جا سکتا ہے، ہمارے آئین کی ہر گز یہ اسکیم نہیں ہو سکتا کہ الیکشن کمیشن یقینی بنائے کہ آپ کسی گورنمنٹ اسکیم کا اعلان نہیں کر سکتے ،
کوئی بھی وزیر سرکاری گاڑی استعمال نا کرے ،زیر اعظم نے تحریری ہدایات دی تھیں کہ میں اپنی جیب سے یا پارٹی اخراجات کروں گا ،اس موقع پر الیکشن کمیشن کے وکیل نے عدالت کو بتایا کہ حکومت پاکستان کے ہیلی کاپٹر استعمال ہورہے ہیں حکومتی مشینری کا استعمال کیا جارہا ہے اس پر عدالت نے استفسار کیا کہ کیا آپ نے یہ بات نوٹس میں لکھی ہے ،اگر الیکشن کمیشن کے پاس ایسا کوئی ثبوت ہے تو اس کے اپنے نتائج ہوتے ہیں جس پر الیکشن کمیشن کے وکیل نے عدالت کو بتایا کہ نوٹس میں لکھا ہے کہ ریاستی مشینری کا استعمال کیا گیا ہے جس پر اٹارنی جنرل نے عدالت کو بتایا کہ جو بھی ریاستی مشینری استعمال ہوئی اگر الیکشن کمیشن نوٹس دیتا وہ رقم واپس ہوجاتی ہے ،وزیراعظم کا کم سے کم سیکورٹی پروٹوکول بھی ضروری ہوتا ہے دوسرے ممالک میں بھی ایسے ہی ہوتا ہے کہ رقم کی ادائیگی ہوجاتی ہے اس موقع پر الیکشن کمیشن کے وکیل نے عدالت کو بتایا کہ الیکشن کمیشن نے بلاول بھٹو کو بھی نوٹس جاری کیا جس پر اٹارنی جنرل نے الیکشن کمیشن کے وکیل کا شکریہ ادا کیا جس پر عدالت نے کہا کہ الیکشن کمیشن کو کوڈ آف کنڈکٹ کی خلاف ورزی نظر آئے تو نوٹس جاری کریالیکشن کمیشن کسی کو آئندہ سماعت تک نااہل نہیں کرے گاکے پی کے لوکل گورنمنٹ ایکٹ 2013 کے تحت ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی کی گئی عدالت نے آئندہ سماعت پر قانونی نکات پر دلائل طلب کرتے ہوئے چھ اپریل تک سماعت ملتوی کر دی
Load/Hide Comments



