سپریم کورٹ کے فیصلے پر اظہار افسوس ہی کیا جاسکتا ہے، اعظم نذیر تارڑ

اسلام آباد (آن لائن) وزیر قانون اعظم نذیرتارڑ نے سپر یم کورٹ کے فیصلے پر اظہار افسوس کرتے ہوئے کہا ہے کہ سپر یم کورٹ نے سیاسی جماعتوں اور وکلاء تنظیموں کے مطالبے پر بالکل غور نہیں کیا، فیصلے پر اظہار افسوس ہی کیا جا سکتا ہے۔سینئر ججز کو تمام معاملات سے دور رکھا جا رہا ہے، محسوس ہو رہا ہے عدالت کو دو حصوں میں تقسیم کر دیا گیا ہے۔ سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد نیوز کانفرنس کرتے ہوئے وزیر قانون کا کہنا تھا کہاانتخابی تاریخ کے فیصلے کے ساتھ ہی چیف جسٹس نے جسٹس فائرعیسیٰ کے فیصلے پر سرکلر یا ایگزیکٹو آرڈر کے بجائے 6 رکنی بینچ تشکیل دیا ہے۔ جس میں جسٹس اعجاز الحسن اور جسٹس مظاہر علی اکبر نقوی بھی شامل ہیں او ر اس بنچ کی سربراہی بھی وہ جج کر رہے جو پہلے ہی متناز ع ہیں،یہ بینچ جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کے فیصلے کا جائزہ لے گا۔ہماری اعلیٰ عدلیہ میں تقسیم ہے تقسیم کا تاثر ختم کرنا عدلیہ کے سربراہ کی ذمہ داری ہے گزشتہ روز تین رکنی بینچ کے فیصلے پر دکھ اور افسوس کا اظہار ہی کر سکتا ہوں۔ یکم مارچ کا فیصلہ چار کی اکثریت سے خارج ہوا تھا انتہائی اہم معاملے کوحل کرنے کے لیے فل کورٹ اجلاس کا مطالبہ کیا تھا۔ ابہام دور کرنے کے لیے فل کورٹ کو بٹھایا جاتا لیکن سیکورٹی و معاشی کے ساتھ سیاسی اور قانونی بحران بھی شامل کردئیے گئے ہیں۔ سپریم کورٹ نے حکومت کی تمام درخواستوں کو مسترد کردیا۔ حکومتی اتحاد سپریم کورٹ کے معاملات سے مطمئن نہیں۔ انہوں نے کہا کہ سپریم کورٹ کے باہر ترازو کا نشان ہے اس کے دونوں پلڑے برابر ہیں مسئلے کا حل صرف اجتماعی سوچ میں ہے مسئلے کے حل کے لیے فل کورٹ فوری طورپر منعقد کی جائے اب چھ رکنی بینچ کے اوپر بھی انگلیاں اٹھائی جارہی ہیں پارلیمان بھی ایک مقننہ ادارہ ہے اور عدالت عظمی بھی ایک معزز ادارہ ہے افسوس اس بات کا ہے کہ سینئر ججز کو تمام معاملات سے دور رکھا جا رہا ہے کچھ جج صاحبان کو ایسے بینچ کا حصہ نہیں بنایا جارہامحسوس ہو رہا ہے کہ عدالت کو دو حصوں میں تقسیم کر دیا گیا ہے، سب کو اکھٹا بٹھائیں مل کر فیصلہ کرے تو آپ کے فیصلوں کی طاقت کو کوئی چیلنج نہیں کر سکے گااگر آج اتفاق نہیں ہے تو یہ ملک و قوم کے لئے بہتر نہیں ہے، ہم اپنی رائے دوسروں پر مسلط نہیں کرتے اجتماعی سوچ سے فیصلے کیے جاتے ہیں.