لاہور (آن لائن)پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان نے کہا ہے کہ گفتگو ریکارڈ کرنا بنیادی حقوق کی خلاف ورزی ہے، عدلیہ کو آڈیو لیکس کے معاملے کا نوٹس لیتے ہوئے کارروائی کرنی چاہیے، امپورٹڈ حکومت کی طرف سے عوام کو مہنگائی کے سمندر میں دھکیلنے پر ہر سطح پر بھرپور آواز بلند کریں گے، حکمران الیکشن سے بھاگ رہے ہیں، آئین شکنی کرنے والوں پر آرٹیکل 6 لگے گا۔اتوار کے روز سابق وزیر صحت پنجاب ڈاکٹر یاسمین راشد کے ہمراہ ویڈیو لنک کے ذریعے پریس کانفرنس کرتے ہوئے عمران خان نے یاسمین راشد کی سی سی پی او لاہور کے ساتھ گفتگو کی آڈیو لیک پر سپریم کورٹ سے نوٹس لینے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ جب کسی کو بلیک میل کرنا ہوتا ہے تو اْس کی فون ٹیپ کی آڈیو ریلیز کردی جاتی ہے، ہمارے تین رہنماؤں کو ڈیپ فیک ویڈیوز سے بلیک میل کیا جارہا ہے۔ عمران خان نے کہا کہ ’یاسمین راشد کی گفتگو لیک کی گئی جس میں وہ سابق سی سی پی او سے بات کررہی تھیں، فون ٹیپنگ پاکستان کی بہتری کے لیے نہیں سیاسی مقاصد کیلیے استعمال ہوتے ہیں‘۔عمران خان نے کہا کہ قانون کہتا ہے کسی کا فون ٹیپ نہیں ہوسکتا، کیا فون ٹیپنگ سیپہلے وزیرداخلہ نے عدالت سے اجازت لی، فون ٹیپنگ سے لوگوں اور عدلیہ کو بلیک میل کیا جارہا ہے۔ چیئرمین پی ٹی آئی نے کہا کہ ہماری پارٹی کے تین سینئر پارٹی رہنماؤں کو بلیک میل کیا جارہا ہے اور انہیں ڈیپ فیک ویڈیوز کا حوالہ بھی دیا جارہا ہے۔انہوں نے کہا کہ بطور سابق وزیر اعظم میری پرنسپل سیکریٹری سے بات چیت کی گفتگو لیک کی گئی پھر میری اہلیہ بشریٰ کے بنیادی حقوق پر ڈاکا مارا گیا اور لینڈ لائن نمبر سے ہونے والی گفتگو لیک کی گئی۔ اس پر میں نے چار ماہ قبل سپریم کورٹ میں ایک درخواست بھی دائر کی کہ وہ بنیادی حقوق کی خلاف ورزی کا نوٹس لے۔عمران خان نے کہا کہ فون ٹیپنگ بلیک میلنگ کیلیے کی جاتی ہے اور جب کسی پر دباؤ ڈالنا ہوتا ہے تو آڈیو لیک کردی جاتی ہے، سپریم کورٹ کے ججز ڈاکٹر یاسمین راشد کی ا?ڈیو لیکس کا نوٹس لے کیونکہ ڈاکٹر یاسمین راشد والی آڈیو زیادہ اہم ہے اور اگر یہ سلسلہ جاری رہا تو بلیک میلرز اس سلسلے کو جاری رکھیں گے۔ انہوں نے کہا کہ سی سی پی او لاہور غلام محمود ڈوگر مجھ پر ہونے والے قاتلانہ حملے کی جے آئی ٹی میں شامل تھے اور انہوں نے بتایا تھا کہ تین حملہ آور تھے، نگراں حکومت نے عہدہ سنبھالتے ہی غلام محمود ڈوگر کا تبادلہ کیا اور اْس کی جگہ ہمارے بدترین مخالف کمیانہ کو سی سی پی او تعینات کردیا۔قبل ازیں ڈاکٹر یاسمین راشد نے اعلان کیا کہ وہ سی سی پی او لاہور کے ساتھ ہونے والی گفتگو کی آڈیو لیک کرنے کے خلاف عدالت جارہی ہے اور عدلیہ سے درخواست کریں گی کہ وہ تعین کرے کہ اس میں کون سی ایجنسی یا ادارہ ملوث ہے۔ دوسری جانب عمران خان کی زیر صدارت پاکستان تحریک انصاف لاہور کے سٹیک ہولڈر کا ویڈیو لنک پر اہم اجلاس ہوا جس میں اعجاز چودھری نے شرکاء کو جیل بھرو تحریک کے حوالے سے تفصیلی بریفنگ دی۔اجلاس میں جیل بھرو تحریک کے حوالے سے مختلف کمیٹیاں تشکیل دی گئیں، عمران خان نے لاہور کے تمام سٹیک ہولڈر کو جیل بھرو تحریک کیلئے بھرپور تیاری کرنے، ڈور ٹو ڈور کمپین پر فوکس کرنے اور الیکشن کراؤ ملک بچاؤ کے حوالے سے ریلیاں نکالنے کی ہدایت کی، چیئرمین پی ٹی آئی نے ڈاکٹر یاسمین راشد کی قیادت میں لاہور بھر میں ڈور ٹو ڈور کمپین کو سراہا۔ عمران خان نے اس موقع پر گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ امپورٹڈ حکومت کی طرف سے عوام کو مہنگائی کے سمندر میں دھکیلنے پر ہر سطح پر بھرپور آواز بلند کریں گے، حکمران الیکشن سے بھاگ رہے ہیں، آئین شکنی کرنے والوں پر آرٹیکل 6 لگے گا۔ اجلاس سے خطاب میں ڈاکٹر یاسمین راشد نے کہا کہ تحریک انصاف بھرپور تیاری کے ساتھ کی جیل بھرو تحریک کا آغاز کرنے جا رہی ہے، تحریک انصاف غریب عوام کو مہنگائی کے سمندر سے نکالنے تک چین سے نہیں بیٹھے گی، لاہور کے تمام سٹیک ہولڈر کا جیل بھرو تحریک میں اہم کردار ہے۔
Load/Hide Comments



