اسلا م آبا د (آن لا ئن) حکومت کی جانب سے گیس کی قیمتوں میں 16.6 فیصد سے 124 فیصد تک اضافہ کیا گیا ہے، 50 کیوبک میٹر تک گیس استعمال کرنے والے گھریلو صارفین اضافے سے مستثنیٰ ہوں گے۔اور حکومت نے فی یونٹ بجلی استعمال کرنے پر پاور ہولڈنگ لیوی عائد کرنے کا فیصلہ کیا ہے جس پر ای سی سی نے فی یونٹ 3.82 روپے لیوی عائد کرنے کی منظوری دے دی گئی ہے۔گیس کی قیمتوں میں اضافہ گھریلو، کمرشل، پاور سیکٹر، کھاد، سیمنٹ انڈسٹری اور سی این جی سمیت تمام شعبوں کے لیے کیا گیا ہے۔یاد رہے کہ اس سے قبل وزیر خزانہ اسحاق ڈار کی زیر صدارت ہونے والے اقتصادی رابطہ کمیٹی (ای سی سی) کے اجلاس میں قدرتی گیس کی قیمت میں اضافے کی منظوری دی گئی تھی۔ذرائع پاور ڈویڑن کے مطابق بجلی کی قیمت پر لیوی مرحلہ وار عائد کیا جائے گا اور نیپرا سے منظوری لی جائے گی، بجلی صارفین کے لیے فی یونٹ 31.74 روپے ہو جائے گا۔ٓٓ آئی ایم ایف کی سخت شرائط پر گیس کی قیمتوں میں بڑا اضافہ کر دیا گیا۔مختلف سیکٹرز کے لیے گیس قیمت میں 16.6 سے 124 فیصد تک اضافہ کیا گیا ہے 50 کیوبک میٹر تک گیس استعمال کرنے والے گھریلو صارفین فیصلے سے مستثنیٰ ہوں گے،100 کیوبک میٹر گیس استعمال کرنے والے گھریلو صارفین کے لیے گیس قیمت میں 16.6 فیصد کا اضافہ کیاگیا ہے۔100 کیوبک میٹر گیس صارفین کے لیے نئی قیمت 300 روپے سے بڑھ کر 350 روپے ایم ایم بی ٹی یو مقررکی گئی ہے۔200 کیو بک میٹر گیس استعمال کرنے والے گھریلو صارفین کے لیے گیس کی قیمت میں 32 فیصد اضافہ کیا گیا 200 کیو بک میٹر گیس والے صارفین کے لیے گیس قیمت 553 روپے سے بڑھا کر 730 روپے ایم ایم بی ٹی یو مقرر کی گی۔300 کیوبک میٹر گیس والے گھریلو صارفین کے لیے گیس 69 فیصد مہنگی کی گئی۔300 کیوبک صارفین کے لیے گیس کی قیمت 738 روپے سے بڑھا کر 1250 روپے فی ایم ایم بی ٹی یومقرر کی گئی۔400 کیوبک میٹر گیس استعمال کرنے والے گھریلو صارفین کے لیے 99 فیصد اضافہ کیاگیا ہے۔قیمت 1107 روپے سے بڑھا کر 2200 روپے فی ایم ایم بی ٹی یو ہو گئی۔400 کیوبک میٹر سے زائد گیس استعمال کرنے والے گھریلو صارفین کے لیے 124 فیصد کا اضافہ کیا گیا۔400 کیوبک میٹر گیس صارفین کے لیے قیمت 1460 روپے سے بڑھ کر 3277 روپے فی ایم ایم بی ٹی مقرر کیاگیاہے۔کمرشل صارفین کے لیے گیس کی قیمت 28.6 فیصد اضافہ کیا گیا۔1283 روپے سے بڑھ کر 1650 روپے فی ایم ایم بی ٹی یو مقرر کی گئی ہے پاور سیکٹر کے لیے بھی گیس قیمت 22.8 فیصد اضافہ کیاگیا۔نئی قیمت 857 روپے فی ایم ایم بی ٹی یو سے بڑھا کر 1050 روپے فی ایم ایم بی ٹی یو مقرر کی گئی ہے برآمدی صنعت کے لیے گیس 34 فیصد مہنگی کرنے کی منظوری دی گئی ہے۔نئی قیمت 819 روپے فی ایم ایم بی ٹی یو سے بڑھا کر 1100 روپے فی ایم ایم بی ٹی یو مقرر کی گئی ہے۔سی این جی شعبے کے لیے گیس 31 فیصد مہنگی کرنے کی منظوری دی گئی ہے۔نئی قیمت 1370 روپے سے بڑھ کر 1800 روپے فی ایم ایم بی ٹی یو مقررکی گئی ہے۔ کھاد کے شعبے کے لیے گیس کی قیمت 46 فیصد اضافہ کیاگیا ہے۔نئی قیمت 1023 روپے بڑھ کر 1500 روپے فی ایم ایم بی ٹی یو ہو گئی۔سیمنٹ سیکٹر کے لیے گیس 17.46 فیصد مہنگی کرنے کی منظوری دی گئی۔نئی قیمت 1277 روپے فی ایم ایم بی ٹی یو سے بڑھا کر 1500 روپے فی ایم ایم بی ٹی مقرر کی گئی اضافہ یکم جنوری سے 30 جون 2023 تک نافذ العمل رہے گا۔خیال رہے کہ 10 فروری کو ہونے والے ای سی سی کے اجلاس میں فیصلہ کیا گیا تھا کہ بجلی منصوبوں کے لیے حاصل کیے گئے قرض پر سود کی رقم بھی عوام ادا کریں گے۔ذرائع کا کہنا تھا کہ فروری مارچ کے لیے پاور ہولڈنگ لیوی 43 پیسے عائد کرنے کی منظوری دی گئی ہے جب کہ مارچ سے جون تک 3.39 روپے اضافی لیوی شامل کیا جائے گا۔ذرائع نے مزید بتایا کہ پاور ہولڈنگ لیوی کا اطلاق 300 یونٹ استعمال کرنے والے صارفین پر نہیں ہوگا، لائف لائن صارفین اور کے الیکٹرک کے بجلی صارفین بھی پاورہولڈنگ لیوی سے مستثنیٰ ہوں گے۔علاوہ ازیں ای سی سی نے بینظیر انکم سپورٹ پروگرام کے لیے 40 ارب روپے کی تکنیکی ضمنی گرانٹ کی منظوری دیدی اور روس سے قرض کی ری شیڈولنگ کی اجازت دیدی۔
Load/Hide Comments



