سیکٹر آئی10 کے خودکش بمبار کا افغانستان میں تربیت لینے کا انکشاف

اسلام آباد(آن لائن) اسلام آباد کے سیکٹر آئی۔10 کے خودکش بمبار کا افغانستان میں تربیت لینے کا انکشاف ہو ا ہے۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق گزشتہ ماہ دارالحکومت اسلام آباد میں خود کو دھماکے سے اڑانے والے خودکش حملہ آور نے دہشت گردی کرنے سے قبل افغانستان میں تربیت حاصل کی تھی۔ 23 دسمبر کو دارالحکومت کے سیکٹر آئی ٹین،4 میں ہونے والے بم دھماکے کی تحقیقات کرنے والے قریبی ذرائع نے میڈیا کو بتایا کہ بمبار نے 2022 میں افغانستان میں عسکریت پسندی کی تربیت حاصل کی تھی، تربیت حاصل کرنے کے بعد وہ 2022 کے آخر میں افغانستان سے واپس آیا اور کرم ایجنسی کے علاقے پاراچنار میں قیام پذیر رہا۔انہوں نے مزید بتایا کہ 23 دسمبر کو دارالحکومت پہنچنے سے قبل خودکش بمبار ہنگو سمیت مختلف مقامات پر منتقل ہوتا رہا جب کہ ہنگو میں وہ ایک سہولت کار کے پاس رہا جو اسے دھماکے والے روز صبح کے اوقات میں دارالحکومت کے پیر ودھائی بس ٹرمینل لے آیا۔ذرائع نے بتایا کہ سہولت کار نے بمبار کو ٹیکسی میں سوار ہوتے دیکھا اور پھر وہ وہاں سے چلا گیا۔ ذرائع نے بتایا کہ تفتیش میں انکشاف ہوا کہ حملہ آور نے ایک بیگ پہنا ہوا تھا جس میں دھماکہ خیز مواد موجود تھا، ذرائع نے مزید کہا کہ اب تک اس بات کا تعین نہیں ہوا کہ یہ بیگ اسے اسلام آباد میں ہی فراہم کیا گیا یا اس نے بیگ کے ساتھ ہی سفر کیا۔ٹرمینل پر پہنچنے کے بعد خودکش حملہ آور نے موبائل فون پر کسی (مبینہ سہولت کار) سے بات کی، اس دوسرے شخص کا ٹھکانہ پیر ودھائی بس ٹرمینل کے قریب پتا چلا اور وہ گزشتہ کئی روز سے وہاں موجود تھا۔خودکش دھماکے میں استعمال ہونے والا دھماکا خیز مواد کا وزن کا وزن 12 سے 14 کلو گرام تھا خودکش حملہ آور نے دھماکہ خیز مواد کے ساتھ لگی پن ہٹا کر دھماکہ کیا، انہوں نے مزید کہا کہ تفتیش کاروں کو وہ پن جائے وقوع سے ملی۔انہوں نے بتایا کہ بمبار کی عمر 22 سال تھی جو ضلع خیبر کا رہنے والا تھا، اس نے ایک مدرسے میں تعلیم حاصل کی تھی تاہم اب تک یہ واضح نہیں ہو سکا کہ خودکش حملہ آور کا ہدف کیا تھا، اس بات کا تعین کیا جانا ابھی باقی ہے۔