اراکین کی عدم دلچسپی کے باعث قومی اسمبلی کا اجلاس آج جمعرات صبح 11 بجے تک ملتوی

اسلام آباد (آن لائن)اراکین کی عدم دلچسپی کے باعث قومی اسمبلی کا اجلاس آج جمعرات صبح 11 بجے تک ملتوی کر دیا گیا،ایوان میں صرف 18 اراکین نے شرکت کی،سیکرٹری توانائی اجلاس میں شرکت نہ کرنے پر قائم مقام سپیکر نے برہمی کا اظہار کیا ہے۔خواجہ آصف اپنی تقریر کے دوران بات چیت کرنے پہ وفاقی وزیر شیری رحمان پہ برس پڑے اورکہا کہ شیری رحمان صاحبہ آپ مجھے بات کرنے دیں گی؟جس پر شیری رحمان نے جواب دیتے ہوئے کہا کہ کوشش کرتی ہوں،اس پر خواجہ آصف نے کہا کہ یہی تو آپ لوگوں کا رویہ ہے جس کی وجہ سے یہ مسائل ہیں،اگر آپ کوئی بات کریں گی تو میں اپنے انداز میں جواب دینے پہ مجبور ہوں گا۔قومی اسمبلی کا اجلاس قائم مقام سپیکرزاہد اکرم درانی کی زیر صدارت ہوا۔اجلاس میں گزشتہ تین سال کے دوران ملک بھر میں خواتین کے خلاف جرائم کی تفصیلات قومی اسمبلی میں پیش کردی گئیں۔قومی اسمبلی میں پیش کئے گئے تحریری جواب میں کہاگیا ہے کہ گزشتہ 3 سال میں خواتین کے خلاف جرائم پر 63ہزار 367 کیس رجسٹر ہوئے،2019 سے 2021 کے دوران ملک بھر میں 3ہزار 987 خواتین کو قتل کیا گیا،خواتین کے ساتھ زیادتی کے دس ہزار 517 کیس رجسٹرڈ ہوئے،تین سال کے دوران اجتماعی زیادتی کے 643 واقعات ہوئے،خواتین پر تشدد کے 5ہزار 171 واقعات پر مقدمات رجسٹر ہوئے۔ تحریری جواب میں مزید کہاگیا ہے کہ تین سال کے دوران 1 ہزار 25 خواتین کو غیرت کے نام پر قتل کیا گیا،خواتین پر تیزاب پھینکنے کے 103 واقعات ہوئے،گھروں میں چولہے پھٹنے سے جھلسنے کے 38 واقعات ہوئے،ملک بھر میں خواتین کو اغوا کرنے کے 41ہزار 513 کیس رجسٹر ہوئے۔شیخ روحیل اصغرنے کہا کہ لابی میں متعلقہ سوالات کے جوابات کے لیے کوئی افسر ہے؟جس پر قائم مقام سپیکر نے کہا کہ کیا کوئی افسر وزارت توانائی سے لابی میں موجود ہے،لابی میں وزارت توانائی کا کوئی افسر بھی موجود نہ ہونے پر قائم مقام اسپیکر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے قائم مقام اسپیکر زاہد اکرم درانی نے سیکرٹری وزارت توانائی کو طلب کر لیاہے،آدھے گھنٹے میں سیکرٹری توانائی نہ آئے تو ان کے خلاف کارروائی کریں گے،جس پر شیخ روحیل اصغر نے کہا کہ کوئی افسر نہیں ہے وزیر بھی یہاں نہیں ہے۔وفاقی وزیر انسانی حقوق ریاض حسین پیرزادہ نے قومی اسمبلی اجلاس سے اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ بلوچستان کے لئے ہمیشہ ہمارا دل روتا ہے،ایکسٹینشنوں کے لئے اس ملک کے ساتھ کیا سلوک ہو رہا ہے؟،سیلیکٹڈ کو اس ملک پہ مسلط کر دیا جاتا ہے،یہاں نہ عدالتیں کام کر رہی ہیں نہ ہی دوسرے ادارے کام کررہے ہیں،کوئی سیاستدان نہیں چاہتا کہ پارلیمنٹ کو بے توقیر کیا جائے،ہمارے آبائی زمین پہ کیس اس لئے بنائے گئے کہ ان کے کہنے پہ پارٹی ٹکٹ نہیں لیا،مجھے ایک تعلیمی ادارے کے لئے زمین دینے پہ خیبر پختونخوا بلا لیا گیا۔قومی اسمبلی اجلاس وزیر دفاع خواجہ آصف نے اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ رستے ہوئے زخموں کو اگنور کرنا نقصان دہ ہے،جب ایسے معاملات کا سیاسی حل نہیں نکالا جاتا تو یہ بہت گھمبیر مسئلہ ہے یہ ریاست کا مسئلہ ہے،میں اپنے بھائی کی باتوں کی تائید کرتا ہوں،سر جوڑ کر ان مسائل کو حل کرنا چاہیے،ان مسائل کو اسی طرح کاری نہیں رہنا چاہیے،گیارہ سال قبل سوات میں جو ہوا، آج پھر وہ مسئلہ ہورہا ہے،خوشی کی بات ہے سوات کے لوگ اکٹھے ہوئے ہیں،یہ مسئلہ پچاس کی دہائی سے شروع ہے.