اسلام آباد (آن لائن)پاکستان تحریک انصاف کے رہنماؤں نے پارٹی رہنما اعظم سواتی کی گرفتاری پر شدید ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ اعظم سواتی پر تشدد کی خبریں پریشان کن ہیں،سینیٹر اعظم سواتی بزرگ ہیں، کسی جوان کو پکڑ لیں لیکن بزرگ کو ننگا نہ کریں،عمران خان کے چیف آف اسٹاف شہباز گل نے ٹوئٹر پر جاری بیان میں کہا کہ ‘سینیٹر اعظم سواتی کی گرفتاری اور پھر انہیں ننگا کر کے مارنا، وہ ایک بزرگ ہیں، نانا اور دادا ہیں، ایک لمحے کو سوچیں ان کی فیملی پر کیا گزر رہی ہوگی؟انہوں نے کہا کہ ‘ہمیں پتا ہے ہم آپ سے کمزور ہیں کچھ نہیں کر سکتے، اس لیے آپ سے استدعا ہے کہ مجھ سمیت پارٹی کے کسی جوان کو پکڑ لیں لیکن بزرگ کو ننگا نہ کریں۔فواد چوہدری نے کہا کہ ‘اعظم سواتی پر تشدد کی خبریں پریشان کن ہیں، سیاسی قیدیوں پر تشدد پاکستان میں ایک نیا معمول بن گیا ہے۔دوسری جانب شیریں مزاری نے بھی اعظم سواتی کی گرفتاری کی سخت مذمت کی اور حیرانی کا اظہار کرتے ہوئے کہا سنجیدگی سے یہ اب جمہوریت کا خاتمہ ہے جس طرح سے امپورٹڈ حکومت اور ان کے لوگ طاقت کا غلط استعمال کرکے برتاؤ کر رہے ہیں۔پی ٹی آئی رہنما زلفی بخاری نے بھی اعظم سواتی کی گرفتاری پر ردعمل دیا اور بولے ‘مریم کو اس کی چوری کے جرم میں چھوڑ دیا گیا ہے، شہباز اور حمزہ اب مجرم نہیں رہے، اور ایک سینیٹر ٹوئٹ میں اپنی رائے کا اظہار نہیں کرسکتا۔ اسد عمرنے ٹوئٹ میں لکھا ہے کہ سینیٹر اعظم سواتی کی گرفتاری قابلِ مذمت ہے. ان کو فوری طور پر رہا کیا جائے۔وکیل بابراعوان کا کہنا ہے کہ آج فاسشٹ حکومت نے ایک اور سینئر سینیٹر کو اٹھایا، گرفتاری کے وقت اعظم سواتی کو کہا گیا ہم ایف آئی اے سے ہیں، سینیٹر سیف اللہ کو پہلے اور آج اعظم سواتی کو اٹھایا، کہی ایسا نہ ہو کسی دن معلوم ہو چیئرمین بھی گمشدہ افراد کی فہرست میں چلے گئے، حکمران غیر ملکی کندھے استعمال کرتے ہوئے اقتدار میں آئے ہیں، یہ حکومت ساڑھے 7 کلو میٹر کی حدود پر ہے۔
Load/Hide Comments



