اب کہتے ہیں کالا قانون ہے کالاقانون نہیں کالا فیصلہ ہے، زندگی کے 5 سال ضائع کرنے پر کوئی تو حساب دے،قائد ن لیگ
لیگ (ن) کے قائد اور سابق وزیر اعظم نواز شریف نے کہا ہے کہ مجھے سزا دی نہیں دلوائی گئی، اب کہتے ہیں کالا قانون ہے کالاقانون نہیں کالا فیصلہ ہے۔مجھ سے انتقام لیتے لیتے ملک کا بھٹہ بٹھا دیا گیا ہے۔مقدمہ جھوٹا تھا، زندگی کے 5 سال ضائع کرنے پر کوئی تو حساب دے،لندن میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے نواز شریف نے کہا کہ نیب کے جج صاحب 6 تاریخ کو فیصلہ نہ سنائیں، میں پاکستان چلا جاؤں گا تو ایک ہفتے بعد میری موجودگی میں سنائیں، نہ جانے اس میں ان کو اس میں کتنا بڑا مسئلہ تھا کہ انہوں نے میری یہ درخواست بھی نہیں مانی۔ان کا کہنا تھا کہ اتنے عرصے کے بعد مریم نواز میرے ساتھ بیٹھی ہیں، یہ یہاں آکر اپنے بھائیوں سے بھی ملی ہیں، اپنی والدہ کے انتقال کے بعد ملی ہیں، اس وقت سے ان کی ملاقات بھائیوں سے نہیں ہوئی، مجھ سے بھی آج تین سال کے بعد ملاقات ہوئی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ مجھے یاد آرہا ہے کہ کس طرح ان کی والدہ بستر مرگ پر تھیں، اور کس طرح سے نیب کے جج صاحب 6 تاریخ کو فیصلہ نہ سنائیں، میں پاکستان چلا جاؤں گا تو ایک ہفتے بعد میری موجودگی میں سنائیں، نہ جانے اس میں ان کو اس میں کتنا بڑا مسئلہ تھا کہ انہوں نے میری یہ درخواست بھی نہیں مانی۔مسلم لیگ (ن) کے قائد نے کہا کہ آگے انتخابات بھی آرہے تھے، تو مقصد یہی تھا کہ انتخابات سے پہلے نواز شریف کا فیصلہ سنایا جائے، اور نواز شریف فیصلہ سن کر ڈر کر پھر یہی رہ جائے، اور وہ پاکستان نہ آئے، جہاں تک میں سمجھا ہوں، غالبا یہی بات تھی، فیصلہ سن کر میں نے مریم نواز کو کہا تھا کہ مجھے 10 سال کی اور تمہیں 7 سال کی سزا سنا دی ہے، اب پاکستان چلیں گے۔
Load/Hide Comments



