سندھ طاس معاہدے کی بحالی کے بغیر پاک بھارت پائیدار امن ممکن نہیں: بلاول بھٹو

چیئرمین پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری کا کہنا ہے کہ سندھ طاس معاہدے کی بحالی کے بغیر پاکستان اور بھارت کے درمیان پائیدار امن ممکن نہیں۔

اسلام آباد میں سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا ہے کہ پانی صرف جغرافیہ نہیں بلکہ خوراک مستقبل اور زندگی کا سوال ہے، آبنائے ہرمز کی بندش نے عالمی معیشت کو متاثر کیا۔

بلاول بھٹو زرداری کا کہنا ہے کہ دریائے سندھ کا پانی پاکستان کی زندگی کی ضمانت ہے، سمندری گزر گاہوں یا آبی وسائل کو بطور ہتھیار استعمال کرنا عالمی امن کے لیے خطرناک رجحان ہے۔

بھارت پانی کو بطور ہتھیار استعمال کرنے کی کوشش کر رہا ہے: روسی ماہر ڈاکٹر روکسولانا زیگون

انہوں نے کہا ہے کہ دنیا کو احساس ہو چکا ہے کہ پانی کے وسائل عالمی سیاست اور سلامتی کا مرکزی مسئلہ بن چکے ہیں، دنیا کو پانی کو ہتھیار بنانے کے خطرے کی سنگینی کو سمجھنا ہو گا۔

ان کا کہنا ہے کہ اکیسویں صدی پانی کی بندش، آبی وسائل کو ہتھیار بنانے کے خطرے سے دو چار ہو سکتی ہے، عالمی برادری کو مشترکہ آبی گزرگاہوں کو ہتھیار بنانے کے خلاف نئے بین الاقوامی قوانین وضع کرنا ہوں گے۔

چیئرمین پیپلز پارٹی نے کہا ہے کہ ایسا نہ ہو کہ مستقبل میں ہر دریا، آبنائے، نہر اور ہر زیریں بہاؤ والا ملک بالادست ریاستوں کے دباؤ کا شکار بن جائے، بھارتی رویہ پوری دنیا کے لیے خطرناک مثال بن سکتا ہے۔

بلاول بھٹو زرداری کا کہنا ہے کہ سندھ طاس معاہدہ برقرار رہنا ضروری ہے، پاکستان اپنے آبی حقوق اور دریائے سندھ پر کسی صورت سمجھوتہ نہیں کرے گا۔