وزیراعظم نے بجٹ ڈاکیومنٹ پر دستخط کردیے

وزیراعظم شہباز شریف نے بجٹ ڈاکیومنٹ 27-2026 پر دستخط کردیے۔

اس حوالے سے موصولہ دستاویز کے مطابق پینشن پر 1169 ارب روپے خرچ کرنے کا تخمینہ لگایا گیا ہے جس میں سے ملٹری پینشن پر 822 ارب روپے، سول پینشن پر 272 ارب روپے خرچ کرنے کا تخمینہ ہے۔

بجٹ دستاویز کے مطابق دفاع کے لیے 3 ہزار ارب روپے مختص کرنے کا تخمینہ ہے۔ گرانٹس کا حجم 2680 ارب روپے مختص کرنے کا تخمینہ ہے۔

سبسڈی کی مد میں 1091 ارب روپے مختص کرنے کا تخمینہ ہے، سول حکومت پر اخراجات کا تخمینہ 1071 ارب روپے خرچ کرنے کا تخمینہ ہے۔ ایمرجنسی صورتحال سے نمٹنے کے لیے 430 ارب روپے مختص کرنے کا تخمینہ ہے۔

بجٹ دستاویز کے مطابق مجموعی طور پر جاری اخراجات 17 ہزار 495 ارب روپے مختص کرنے کا تخمینہ ہے۔

وفاقی بجٹ کا مجموعی حجم 18 ہزار 771 ارب روپے ہوگا، وفاقی ترقیاتی بجٹ کا حجم 1050 ارب ہوگا۔

بجٹ دستاویز کے مطابق ایف بی آر کا ٹیکس وصولی کا ہدف 15ہزار264ارب روپے رہنے کا تخمینہ ہے۔

نان ٹیکس ریونیو کی مد میں 5 ہزار 336 ارب وصول ہونے کا تخمینہ ہے۔ نان ٹیکس ریونیو کی مد میں 5 ہزار 336 ارب وصول ہونے کا تخمینہ ہے جبکہ نجکاری سے 4 ہزار 12 ارب روپے آمدن کا تخمینہ ہے۔

آئندہ مالی سال صوبوں کو 8 ہزار 848 ارب روپے منتقل کیے جائیں گے، وفاقی حکومت کی حاصل آمدن کا تخمینہ 11 ہزار 751 ارب روپے ہے۔

بجٹ دستاویز کے مطابق اندرونی ذرائع سے 2034 ارب، بیرونی ذرائع سے 813 ارب کا قرض ملے گا۔