ترجمان دفترِ خارجہ طاہر حسین اندرابی نے کہا ہے کہ بھارت کی جانب سے چناب اپ لنک ٹنل منصوبے کے لیے بولیاں طلب کرنے کی اطلاعات اور سرکاری دستاویزات پر تشویش ہے۔
وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ منصوبے کا مقصد سالانہ 19 لاکھ ایکڑ فٹ پانی دریائے چناب سے بیاس نظام میں منتقل کرنا ہے، دریائے چناب کے پانی کا دوسرے دریائی نظام میں رخ موڑنا سندھ طاس معاہدے کی سنگین خلاف ورزی ہے، یہ ڈیم منصوبہ بھارت کو پانی کے بہاؤ پر ایسا کنٹرول دے سکتا ہے جو سندھ طاس معاہدے کےتحت قابلِ قبول نہیں ہے،یہ اقدام معاہدات کے قانون سے متعلق ویانا کنونشن اور بین الاقوامی آبی قوانین کے اصولوں سے بھی متصادم ہے۔
طاہر حسین اندرابی نے کہا ہے کہ بھارت نے ان منصوبوں سے متعلق نہ باضابطہ اطلاع دی اور نہ ہی پاکستان سےمشاورت کی، یہ منصوبے اس امر کی تصدیق کرتے ہیں کہ بھارت پانی کو بطور ہتھیار استعمال کرنا چاہتا ہے اور بھارتی اقدامات پاکستان کی معیشت، غذائی تحفظ اور علاقائی استحکام کے لیے خطرناک نتائج کے حامل ہو سکتے ہیں۔



