چین ایران کےافسودہ یورینیم کو تحویل میں لینےکیلئے تیار ہے،امریکی میڈیا

ایک اہم سفارتی پیشرفت میں یہ انکشاف سامنے آیا ہے کہ چین ایران سے افزودہ یورینیم اپنے قبضے میں لینے یا اس کی افزودگی کم کرنے پر آمادہ ہے، تاکہ جاری تنازع کے حل کے لیے ممکنہ معاہدے کی راہ ہموار کی جا سکے۔

امریکی خبر رساں ادارے کے مطابق اس معاملے سے واقف ایک سفارت کار نے بتایا کہ چین تقریباً 970 پاؤنڈ (440 کلوگرام) افزودہ یورینیم کو تحویل میں لینے یا اسے کم سطح پر لا کر سول مقاصد کے لیے قابلِ استعمال بنانے پر غور کر رہا ہے۔

یہ وہی یورینیم ہے جسے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کسی بھی ممکنہ معاہدے کے لیے ایران سے ہٹانا ضروری قرار دے چکے ہیں۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ موجودہ صورتحال سے ظاہر ہوتا ہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ چاہتے ہیں کہ امریکا خود اس یورینیم کو اپنے قبضے میں لے، جو مبینہ طور پر گزشتہ برس جون میں امریکی بمباری سے متاثر ہونے والی ایرانی جوہری تنصیبات کے نیچے موجود ہے۔

تاہم چین، جو ایران کا سب سے بڑا تجارتی شراکت دار ہے، یہ اشارہ دے رہا ہے کہ اگر واشنگٹن اور تہران کی جانب سے باضابطہ درخواست کی گئی تو وہ اس یورینیم کو لینے یا اس کی افزودگی کم کرنے کے لیے تیار ہے، تاکہ اسے پُرامن اور سول استعمال میں لایا جا سکے۔

سفارت کار نے اس حساس معاملے پر بات کرتے ہوئے اپنی شناخت ظاہر نہ کرنے کی شرط عائد کی۔

یاد رہے کہ 2015 کے جوہری معاہدے کے تحت ایران نے تقریباً 25 ہزار پاؤنڈ (11 ہزار کلوگرام) کم افزودہ یورینیم روس منتقل کیا تھا، جو معاہدے کی ایک اہم شرط کو پورا کرنے کے لیے ضروری تھا۔