ایران کی نیشنل سکیورٹی کونسل نے تصدیق کی ہے کہ پاکستان کی حالیہ ثالثی کوششوں کے بعد امریکا کی جانب سے نئی تجاویز موصول ہوئی ہیں، جن پر ایران غور کر رہا ہے۔ ابھی تک ایران نے ان تجاویز کا کوئی جواب نہیں دیا۔
ایرانی میڈیا کے مطابق کونسل کے بیان میں کہا گیا کہ امریکا نے جنگ کے دسویں دن سے مذاکرات کی درخواستیں شروع کی تھیں، اور پاکستان کی ثالثی کے ذریعے ایک مجوزہ فریم ورک پر مذاکرات کی رضامندی ظاہر کی گئی۔ ایران نے مذاکرات میں گہرے عدم اعتماد کے باوجود اپنا مؤقف مضبوطی سے پیش کیا، تاہم امریکا نے نئے اور حد سے زیادہ مطالبات پیش کیے، جس پر ایران نے سخت مؤقف اختیار کیا۔
بیان میں مزید کہا گیا کہ ایران کی مذاکراتی ٹیم قومی مفادات اور عوام کے حقوق پر کسی قسم کی رعایت نہیں دے گی۔ ایران کی ایک اہم شرط یہ ہے کہ لبنان سمیت تمام محاذوں پر فائر بندی ہو، اور دشمن تمام محاذوں پر جنگ بندی کا احترام کرے، تب ہی آبنائے ہرمز کو مشروط طور پر تجارتی جہازوں کے لیے کھولا جائے گا، جبکہ فوجی یا غیر تجارتی جہازوں کو داخلے کی اجازت نہیں ہوگی۔
ایران نے خبردار کیا ہے کہ اگر دشمن بحری آمد و رفت میں رکاوٹ ڈالے یا ناکہ بندی کی کوشش کرے، تو اسے جنگ بندی کی خلاف ورزی تصور کیا جائے گا اور آبنائے ہرمز کو محدود یا مشروط طور پر بھی نہیں کھولا جائے گا۔



