مچھرکچھ انسانوں کو زیادہ کیوں کاٹتے ہیں؟ دلچسپ تحقیق منظرعام پر آگئی

مچھر کے کاٹنے کے حوالے سے اکثر دیکھا جاتا ہے کہ کچھ افراد بار بار مچھروں کا نشانہ بنتے ہیں جبکہ دیگر نسبتاً محفوظ رہتے ہیں۔ ماہرین کے مطابق یہ فرق اتفاق نہیں بلکہ جسمانی، جینیاتی اور ماحولیاتی عوامل کے مجموعے کا نتیجہ ہوتا ہے۔

ماہرین بتاتے ہیں کہ صرف مادہ مچھر ہی انسانوں کو کاٹتی ہیں کیونکہ انہیں انڈوں کی افزائش کے لیے خون درکار ہوتا ہے۔ مچھر اپنے شکار کا تعین مختلف حسی اشاروں کے ذریعے کرتے ہیں، جن میں سب سے اہم کاربن ڈائی آکسائیڈ ہے جو انسان سانس کے ذریعے خارج کرتے ہیں۔

تحقیقی رپورٹس کے مطابق جو افراد زیادہ مقدار میں کاربن ڈائی آکسائیڈ خارج کرتے ہیں، جیسے جسمانی طور پر متحرک افراد، حاملہ خواتین یا زیادہ وزن رکھنے والے لوگ، وہ مچھروں کو زیادہ اپنی جانب متوجہ کرتے ہیں۔

اس کے علاوہ جسم کی مخصوص بو بھی اہم کردار ادا کرتی ہے۔ جلد سے خارج ہونے والے کیمیائی مرکبات بعض افراد کو مچھروں کے لیے زیادہ پرکشش بنا دیتے ہیں۔

جینیاتی عوامل بھی اس حوالے سے اثر انداز ہوتے ہیں۔ ماہرین کے مطابق مچھروں کی جانب کشش کا ایک بڑا حصہ وراثتی ہوتا ہے، جس کے باعث کچھ افراد پیدائشی طور پر زیادہ متاثر ہوتے ہیں۔ مزید یہ کہ خون کے مخصوص گروپس، خاص طور پر گروپ او رکھنے والے افراد میں مچھر کے کاٹنے کے امکانات زیادہ پائے جاتے ہیں۔

طرزِ زندگی اور ماحول بھی اس عمل پر اثر ڈالتے ہیں۔ جسمانی سرگرمی کے بعد بڑھنے والا درجہ حرارت، پسینہ، شراب نوشی اور گہرے رنگ کے کپڑے مچھروں کو زیادہ متوجہ کر سکتے ہیں، جس سے بعض افراد نسبتاً زیادہ نشانہ بنتے ہیں۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ کچھ افراد کے جسم سے ایسے کیمیائی مادے بھی خارج ہوتے ہیں جو مچھروں کو دور رکھنے میں مدد دیتے ہیں، اسی لیے ہر شخص پر مچھر کے کاٹنے کا اثر مختلف ہوتا ہے۔

نتیجتاً، مچھر کے کاٹنے کا فرق ایک پیچیدہ حیاتیاتی عمل ہے جو جسمانی کیمیاء، جینیات اور ماحول کے باہمی اثر سے پیدا ہوتا ہے، اور یہی وجہ ہے کہ ہر فرد اس کا مختلف انداز میں سامنا کرتا ہے۔