کیا نو منتخب برطانوی وزیر اعظم کیئر اسٹارمر کشمیر پر پارٹی موقف پر قائم رہیں گے؟

برطانیہ کی لیبر پارٹی کے سربراہ اور نو منتخب وزیر اعظم کیئر اسٹارمر کا کہنا ہے کہ تبدیلی کا وقت آچکا ہے۔

غیر ملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق نو منتخب برطانوی وزیر اعظم کے لیے سب سے بڑا چیلنج طاقت ور عالمی معیشت کے ساتھ اپنے تعلقات کو بہتر کرنا ہے۔

برطانوی انتخابات میں لیبر پارٹی نے 412 نشستیں اپنے نام کرکے 14 سالہ کنزرویٹو پارٹی کا راج ختم کردیا۔

خیال رہے کہ رشی سنک کی کنزرویٹو پارٹی صرف 121 نشستیں اپنے نام کرنے میں کامیاب ہوسکی۔

کیئر اسٹارمر کے مطابق انہوں نے لیبر پارٹی کو تبدیل کر دیا ہے اور اب وہ اقتدار میں آنے کے بعد ملک کو تبدیل کرنے کے لیے پُر عزم ہیں۔

ایسے میں سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا وہ مسئلہ کشمیر کے حوالے سے اپنے پارٹی موقف پر برقرار رہیں گے یا اسے بھی تبدیل کردیں گے؟

یاد رہے کہ ماضی میں لیبر پارٹی مسئلہ کشمیر پر اپنے موقف کی وجہ سے شدید تنقید کی زد میں رہی ہے۔

لیبر پارٹی نے جرمی کاربن کی قیادت میں پارلیمنٹ میں مقبوضہ کشمیر سے متعلق قرارداد پیش کی تھی۔

قرارداد کے مطابق کشمیر بھارت اور پاکستان کا دو طرفہ معاملہ ہے، جس کا حل پاکستان اور بھارت کو کشمیریوں کے ساتھ مل کر نکالنا چاہیے۔