چاند رات اور عید الفطر کی آمد، وزیر اعلی پنجاب مریم نواز شریف کی ہدایت پر پنجاب پولیس کے سکیورٹی کے سخت اقدامات

لاہور (آن لائن) وزیر اعلی پنجاب مریم نواز شریف کی ہدایت پر چاند رات اور عید الفطر کیلئے پنجاب پولیس نے سکیورٹی کے سخت اقدامات مکمل کر لئے ہیں، ترجمان پنجاب پولیس نے بتایا کہ چاند رات اور عیدالفطر پر لاہور سمیت صوبہ کے تمام اضلاع میں 52 ہزار سے زائد افسران و اہلکار تعینات ہونگے، صوبہ بھر میں 26 ہزار سے زائد مساجد، امام بارگاہوں اور کھلے مقامات پر نماز عید الفطر کیلئے سکیورٹی انتظامات مکمل ہیں، ترجمان پولیس پولیس نے کہا کہ صوبائی دارالحکومت میں چاند رات اور عید الفطر پر 08 ہزار سے زائد افسران اور اہلکار سکیورٹی ڈیوٹی کریں گے جبکہ صوبہ بھر میں 08 ہزار سے زائد سی سی ٹی وی کیمرے، 15ہزار سے زائد میٹل ڈٹیکٹرز، 168واک تھرو گیٹس استعمال کئے جائیں گے، ترجمان پنجاب پولیس نے مزید کہا کہ سیف سٹیز اتھارٹی کے کنٹرول رومز سے مساجد، امام بارگاہوں، حساس مقامات کی نگرانی کی جائے گی۔ آئی جی پنجاب ڈاکٹر عثمان انور نے افسران کو ہدایت کی کہ چاند رات اور عید پر ڈولفن سکواڈ، پی آر یو، ایلیٹ ٹیمیں اہم مقامات کے گرد مسلسل پٹرولنگ کریں گی، ہوائی فائرنگ، ون ویلنگ اور ہلڑ بازی کی ہرگز اجازت نہیں، آئی جی پنجاب نے کہا کہ خواتین کو ہراساں کرنے والے اوباشوں کو جیل کی ہوا کھانی پڑے گی، آر پی اوز، ڈی پی اوز کو عید سکیورٹی انتظامات کی خود نگرانی کریں، آئی جی پنجاب ڈاکٹر عثمان انور نے ہدایت کی کہ ملکی حالات کے پیش نظر بین الصوبائی راستوں پر گاڑیوں اور افراد کی چیکنگ اور دریائی چیک پوسٹوں پر پٹرولنگ کو مزید موثر بنایا جائے، مری اور گلیات میں عید کی چھٹیوں میں اضافی رش کے پیش نظر ٹورزم فورس سیاحوں کو سہولت، تحفظ اور راہنمائی فراہم کریں۔ آئی جی پنجاب نے کہا کہ اہم شاہرات اور تفریحی مقامات کے گردونواح میں ٹریفک کی روانی برقرار رکھنے کے لیے اضافی نفری تعینات کی جائے۔ اے کیٹیگری کے عید اجتماعات میں سادہ لباس میں پولیس کمانڈوز، سنائپرز روف ٹاپ ڈیوٹی پر الرٹ رہیں، آئی جی پنجاب نے ہدایت کی کہ مارکیٹوں، حساس مساجد، امام بارگاہوں اور اقلیتی عبادت گاہوں کے گرد پٹرولنگ کومزید مؤثر بنایا جائے، صوبہ بھر میں سرچ، سویپ، کومبنگ اور انٹیلی جنس بیسڈ آپریشنز، سنیپ چیکنگ روزانہ کی بنیاد پر جاری رکھے جائیں، ڈاکٹر عثمان انور نے ہدایت کی کہ عید اجتماعات اور تعطیلات کے دوران تفریحی مقامات اور پارکوں کی سکیورٹی کو بھی مد نظر رکھا جائے۔