اسلام آباد، تہران (آن لائن) ایران کے وزیر خارجہ حسین امیر عبداللہیان نے کہا ہے کہ اس وقت عالمی یوم قدس اور مسئلہ فلسطین کیلئے عالمی حمایت کی ضرورت ہے،اس سال ہم عالمی یوم قدس ایسے حالات میں منانے جا رہے ہیں جب عالم انسانیت کے سامنے بڑے جرائم اور تاریخی نسل کشی رونما ہو رہی ہے، فلسطین اور بالخصوص غزہ میں گزشتہ 6 ماہ میں جو گہرا انسانی المیہ رونما ہوا ہے وہ افسوسناک اور غمناک ہے۔یوم القدس پر اپنے پیغام میں ایران کے وزیر خارجہ نے کہا کہ مظلوم اور مزاحمت کرنے والی عظیم فلسطینی قوم کے حقوق کی ایک اور تاریخی خلاف ورزی کی جا رہی ہے، جس میں کسی قوم کے مقبوضہ علاقے کے جغرافیائی دائرہ کار میں بین الاقوامی قوانین اور ضوابط کی خلاف ورزی، اور طاقت کا واضح استعمال اور ہر قسم کے جرائم کافلسطینی زمین کے اصل مالکان کے خلاف اسرائیل کی نام نہاد اور ناجائز حکومت کیطرف سے ارتکاب شامل ہیں۔ان دنوں نہ صرف معصوم فلسطینی عورتیں اور مرد اور بے بس اور معصوم فلسطینی بچوں کو یہ مجرم زمین پر گھسیٹ رہے ہیں بلکہ اسپتال، طبی مراکز، مساجد اور گرجا گھروں کو بھی اس جعلی اور حیوان نما حکومت کے اہلکار اور فوجی تباہ کر رہے ہیں اور وہ ان کے ہاتھوں سے محفوظ نہیں ہیں۔ انہوں نے کہا کہ بلاشبہ صہیونیوں کے اقدامات انسانی حقوق کی سب سے واضح اور بنیادی خلاف ورزی ہیں۔ جونسل کشی اور انسانیت کے خلاف مشترکہ جرائم کے زمرے میں آتے ہیں۔ غزہ کی پٹی میں نسل کشی اور ہر قسم کے جنگی جرائم کا تسلسل، تقریباً 6 ماہ میں 33 ہزار سے زائد فلسطینیوں کا قتل عام، جن میں اکثریت خواتین اور بچوں کی ہے، اس کے ساتھ ساتھ پوری غزہ کی پٹی کے لیے جعلی اسرائیلی حکومت کا انسانی امداد اور خوراک بھیجنے سے روکنا اور اور خواتین اور بچوں کی نسل کشی کو جاری رکھنا اور انہیں مصر کے صحرائے سینا اور اردن کی سرزمین پر زبردستی منتقل کرنے کے مقصد سے غزہ کے باشندوں کو بھوک سے مارنے کے لیے طاقت کے استعمال نے اس صدی ک سب سے بڑے انسانی بحران کو جنم دیا ہے۔ ایران کے وزیر خارجہ نے مزید کہا کہ اب یہ واضح ہو چکا ہے کہ غزہ کی پٹی کا مکمل محاصرہ کرنے اور فوری اور کافی انسانی امداد کی ترسیل کو روکنے میں اسرائیلی حکومت کے خطرناک مقاصد میں سے ایک سماجی اور شہری تباہی کے حالات پیدا کرنا اور زندگی کے تمام آثار کو تباہ کرنا ہے۔ فلسطین کی تاریخی اور تہذیبی شناخت کا خاتمہ ہے۔غزہ کی پٹی کے مکینوں کو زبردستی نقل مکانی کرنے کی کوشش مجرم صیہونی حکومت کی شیطانی پالیسی کا واضح ثبوت ہے۔آج پہلے سے زیادہ اس کی ضرورت ہے کہ غزہ کی پٹی میں صیہونی حکومت کی جانب سے نسل کشی اور قتل عام کے عناصر کو اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل اور عالمی عدالت انصاف اور انصاف کے بین الاقوامی اداروں کی توجہ دلائی جائے اور موثر روک تھام اور تادیبی اقدامات کیے جائیں۔ انہوں نے کہا کہ اس کے علاوہ، ایک فوری اور اہم اقدام کے طور پرضروری ہے، اقوام متحدہ، عالمی برادری، عالمی ریڈ کراس کی مدد سے رفح کراسنگ اور دیگر انسانی کراسنگ پوائنٹس کو جلد از جلد مکمل طور پر دوبارہ کھولے تاکہ غزہ کے خواتیں، بچوں اور عام عوام کے لیے نامل زندگی کے لیے حالات پیدا ہوں۔بین الاقوامی فورمز میں، ہم نے اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل اور عالمی ریڈ کراس کے ساتھ مسلسل بات چیت میں انسانی ہمدردی کے شعبے میں وسیع مشاورت کی ہے۔ اس تمام بات چیت اور جو گفتگو اسلامی ممالک کیساتھ ہوئی اس میں ترجیحی بنیادوں پر امداد کی فراہمی اور جنگ بندی کی ضرورت پر تاکید کی بلاشبہ ہم نے دیکھا ہے کہ اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل اور انٹرنیشنل ریڈ کراس آرگنائزیشن کے سربراہ نے اہم اقدامات کیے ہیں لیکن عمومی طور پر وائٹ ہاؤس اور بعض مغربی حکومتوں کے اسرائیلی حکومت کے ساتھ مکمل تعاون کی وجہ سے یہ انسانی کوششیں اب تک ناکام رہی ہیں اور مطلوبہ ہدف حاصل نہیں ہوا۔یہ انتہائی افسوسناک ہے کہ غزہ کی پٹی پر غاصب صیہونی حکومت کے وحشیانہ حملوں کو تقریباً 6 ماہ گزر جانے کے باوجود عالمی برادری بالخصوص اقوام متحدہ اور اس تنظیم کی سلامتی کونسل کی جانب سے دائمی بے عملی کا مظاہرہ کیا جا رہا ہے۔، جس کا بنیادی کام امن اور بین الاقوامی سلامتی کی یقینی بنانا ہے۔ یہ بات بالکل واضح ہے کہ امریکہ اس جنگ کو جاری رکھنے اور اسے جاری رکھنے میں ایک اہم فریق رہا ہے، دوسری طرف توقع یہ تھی کہ اسلامی تعاون تنظیم مختلف سیاسی اور اقتصادی صلاحیتوں اور دباؤ کو استعمال کرتے ہوئے جنگ بندی میں اپنا کردار ادا کرے گی۔ اس کے علاوہ، ایک فوری اور اہم اقدام کے طور پرضروری ہے، اقوام متحدہ، عالمی برادری، عالمی ریڈ کراس کی مدد سے رفح کراسنگ اور دیگر انسانی کراسنگ پوائنٹس کو جلد از جلد مکمل طور پر دوبارہ کھولے تاکہ غزہ کے خواتیں، بچوں اور عام عوام کے لیے نامل زندگی کے لیے حالات پیدا ہوں۔بین الاقوامی فورمز میں، ہم نے اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل اور عالمی ریڈ کراس کے ساتھ مسلسل بات چیت میں انسانی ہمدردی کے شعبے میں وسیع مشاورت کی ہے۔
Load/Hide Comments



