غزہ میں ہونے والے مظالم پر تشویش ہے،پاکستان

اسلام آباد(آن لائن)پاکستان نے کہا ہے کہ غزہ میں ہونے والے مظالم پر تشویش ہے،خوراک تقسیم سینٹر پر حملہ غیر انسانی حرکت ہے،اقوام متحدہ مظالم رکوانے میں اپنا کردار ادا کرے۔ترجمان دفتر خارجہ ممتاز زہرا بلوچ نے ہفتہ وار پریس بریفنگ دیتے ہوئے کہا کہ اسحاق ڈار نے عہدے کا چارج سنبھال لیا ہے،وزیرخارجہ کو بریفنگز دی گئی ہیں، آنے والے دنوں میں وزیر خارجہ کی مصروفیات کے حوالے سے بریفنگ دیں گے، انہوں نے کہا کہ غزہ میں ہونے والے مظالم پر تشویش ہے،خوراک تقسیم سینٹر پر حملے کی مذمت کرتے ہیں،،یہ غیر انسانی حرکت ہے،پاکستان اسرائیلی اقدامات کی مذمت کرتا ہے،اقوام متحدہ قابض افواج کے مظالم رکوائے،ترجمان نے کہا کہ کشمیر نیشنل فرنٹ پر بھارتی پابندی کی شدید مذمت کرتے ہیں،بھارت فوری طور پر کشمیر کی سیاسی جماعتوں پر سے پابندی ہٹائے،پاکستان کشمیریوں کی سیاسی،اخلاقی و سفارتی حمایت جاری رکھے گا،انہوں نے کہا کہ پاکستان کے یورپی یونین سے اہم اور وسیع تعلقات ہیں،جی ایس پی پلس ان تعلقات کا اہم جزو ہے،گزشتہ ہفتے دونوں فریقین کے سیاسی مذاکرات کا نواں دور ہوا،دونوں فریق مل کر تمام شعبوں میں کام جاری رکھیں گے،ترجمان نے کہا کہ پاکستان امریکہ کے ساتھ تعلقات کو اہمیت دیتا ہے،امید کرتے ہیں کہ امریکی کانگریس دونوں ممالک کے درمیان تعلقات کے لیے کردار ادا کرتی رہے گی،18 دسمبر 2019 کو پاکستان کی قومی اسمبلی نے ایک قرارداد منظور کی،ہندوتواء کی لہر نے بھارت میں اقلیتوں کو بہت متاثر کیا، پاکستان کے یورپی یونین سے اہم اور وسیع تعلقات ہیں،جی ایس پی پلس ان تعلقات کا اہم جزو ہے،،گذشتہ ہفتے دونوں فریقین کے سیاسی مذاکرات کا نواں دور ہوا،دونوں فریق مل کر تمام شعبوں میں کام جاری رکھیں گے، پاکستان نے فلسطین کے ایشو پر او آئی سی میں متحرک کردار ادا کیا ہے،فلسطینی عوام کا قتل عام بند ہونا چاہیے،پاکستان نے 11 مارچ کو بھارتی میزائل ٹیسٹ کو نوٹ کیا ہے،بھارت نے پاکستان کو میزائل تجربہ سے پہلے آگاہ کیا،یہ آگاہی معاہدے کے مطابق تین روز قبل نہیں دی گئی،معاہدے کے مطابق آگاہی دے جانی چاییے،ترجمان نے کہا کہ پاکستان اور افغانستان کے درمیان رابطے کے بہت سے چینلز ہیں،افغانستان کے ساتھ دہشتگردی سمیت دیگر ایشوز پر بات چیت ہوتی رہتی ہے،دہشتگردوں کی محفوظ پناہ گاہوں سے متعلق بھی بات ہوتی ہے،تمام ممالک سے اچھے تعلقات ہمیں خارجہ پالیسی ہیں،ایشیاء پیسفک امن کا خطہ ہونا چاہیے،پاکستان اور افغانستان کے درمیان حالیہ عرصے میں وزرائے خارجہ لیول پر کوئی رابطہ کے سوال پر ترجمان دفتر خارجہ نے کہا کہ میرے علم میں ایسا کوئی رابطہ نہیں۔